لاک ڈاؤن کے معاشی اثرات، عوام کے کھانے پینے کے اخراجات میں 25 فیصد کمی، گیلپ پاکستان

ملک کے 30 لاکھ خاندان اپنے ضروری اخراجات کیلئے حکومت اور این جی اوز کی معاونت پر انحصار کر رہے ہیں، 1.8 ملین خاندانوں نے اپنی بنیادی گھریلو ضروریات پوری کرنے کیلئے لاک ڈاؤن کے دوران اثاثہ جات کو فروخت کیا، سروے نتائج

103

اسلام آباد: کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے جزوقتی یا مکمل لاک ڈاؤن کے معاشی اثرات کی وجہ سے پاکستان کے عوام کے کھانے پینے کے اخراجات میں 25 فیصد کمی ہوئی ہے۔

اپریل 2020ء کے دوران کئے گئے گیلپ پاکستان کے سروے کے نتائج کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ سے عوام کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے۔ نتائج کے مطابق معاشی سرگرمیوں میں کمی کے باعث 6.9 ملین خاندانوں نے اپنے کچن کے اخراجات میں کمی کی ہے۔

شہری علاقوں میں 27 فیصد شہری لاک ڈاؤن سے قبل کے مقابلہ میں کم اخراجات کر رہے ہیں اور کھانے پینے کی زیادہ مہنگی اشیاء کی خریداری کی بجائے کم نرخوں پر سستی اشیاء کی خریداری کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں یہ تناسب 20 فیصد ہے۔ اس طرح شہری اور دیہی علاقوں میں کھانے پینے کے اخراجات میں کمی کا اوسط تناسب 25 فیصد کے قریب ہے۔

نتائج کے مطابق 19 فیصد پاکستانی بہت کم بچت کے مالک ہیں جن کے پاس گھر میں یا کسی بینک میں بچت کا کوئی پیسہ محفوظ نہیں ہے۔

مزید برآں دیہی علاقوں کے مقابلہ میں شہری علاقوں کے تقریباً 10 ملین بالغ افراد نے وباء کے بعد کمائی کے متبادل ذرائع اختیار کئے ہیں۔

سروے نتائج کے مطابق ملک کے 30 لاکھ خاندان اپنے ضروری اخراجات کیلئے حکومت اور این جی اوز کی معاونت پر انحصار کر رہے ہیں جبکہ 1.8 ملین خاندانوں نے اپنی بنیادی گھریلو ضروریات پوری کرنے کیلئے لاک ڈاؤن کے دوران اپنے بعض اثاثہ جات کو فروخت کیا ہے۔

واضح رہے کہ ملک کی بڑی غیر منافع بخش تنظیم اخوت کے بانی ڈاکٹر محمد امجد ثاقب بھی چند روز قبل کہہ چکے ہیں کہ ملک میں 30 لاکھ کے قریب خاندانوں کو مالی معاونت کی ضرورت ہے۔

حکومت نے لاک ڈاؤن کو مرحلہ وار کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے معاشی سرگرمیوں کی بڑھوتری سے عام آدمی کی آمدنی میں اضافہ متوقع ہے جس سے وہ اپنے ضروری اخراجات کی تکمیل کو یقینی بنا سکیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here