صنعتکاروں کا ڈاؤن سٹریم ٹیکسٹائل انڈسٹری کی پیداواری سرگرمیاں بحال کرنے کا مطالبہ 

وزیراعلیٰ سندھ ٹیکسٹائل انڈسٹری سے جڑی ٹیکسٹائل ویلیو چین کو کھولنے کی اجازت دیں، صدر سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری سلیمان چاؤلہ

247

کراچی: صنعتکاروں نے وزیر اعلیٰ ٰ سندھ مراد علی شاہ سے ڈاؤن سٹریم ٹیکسٹائل انڈسٹری اور ٹیکسٹائل ویلیو چین کی پیداواری سرگرمیاں بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ کورونا سے ہونے والے سنگین معاشی بحران سے نمٹنے اور صنعتوں کو تباہی سے بچانے کے اقدامات کیے جائیں۔

اپنے ایک بیان میں سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر سلیمان چائولہ نے کہاہے کہ ملکی معیشت کی ترقی میں ٹیکسٹائل صنعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور پاکستان کی مجموعی برآمدات میں اس سیکٹرکا برآمدی شیئر بھی سب سے زیادہ ہے لہٰذا حکومت کو ٹیکسٹائل انڈسٹری کو اپنے پاؤں پر دوبارہ کھڑا کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ صنعتکار برادری نے خطیر مالی نقصانات کے باوجود ملک اور قوم کے بہتر ترین مفاد میں کرونا وبا کی روک تھام کے لیے حکومت کے ہر فیصلے کی نہ صرف حمایت کی بلکہ اپنی صنعتوں کو بند رکھا تاہم اب حکومت نے ایس اوپیز پر عمل درآمد سے مشروط صنعتیں بدتریج کھولنے کی اجازت دی ہے مگر اس کے ساتھ ہی حکومت کو ٹیکسٹائل انڈسٹری سے جڑی دیگر صنعتوں کو بھی کھولنے کی اجازت دینے کی ضرورت ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے صرف برآمدی آرڈرز کی حامل صنعتوں کو پیداواری سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دی اور ساتھ ہی یہ پابندی بھی عائد کی کہ ان صنعتوں کی اپنی ورکرز رہائشی کالونیاں بھی ہونا ضروری ہیں جہاں ایس اوپیز پر سخت سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے جبکہ صنعتوں نے ایس اوپیز پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔

انہوں نے حکومت کو یہ باور کروایا کہ جب تک ڈاؤن اسٹریم ٹیکسٹائل انڈسٹری اور ٹیکسٹائل ویلیو چین کو دوبارہ کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی اس وقت تک حکومت کا بڑی صنعتوں کو پیداواری سرگرمیاں بحال کرنے کی اجازت دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی ملک کو درپیش معاشی بحرانوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

سلیمان چاؤلہ نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ ٹیکسٹائل ویلیو چین کی پیداواری سرگرمیاں بحال کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری اپنی پوری سپلائی چین کے ساتھ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکے بصورت دیگر پیداواری سرگرمیاں رکاوٹ کا شکار ہوجائیں گی اور اس کے نتیجے میں اس اہم برآمدی صنعت سے جڑی ڈاؤن اسٹریم صنعتوں میں کام کرنے والے لاکھوں مزدوروں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here