تجارتی آرڈرز منسوخ ہونے کی وجہ سے اپریل میں قومی برآمدات میں 54 فیصد کمی

240
Êîíòåéíåð íà êðþêå íà ôîíå íåáà

اسلام آباد: پاکستان ادارہ برائے شماریات (پی بی ایس) کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے بین الاقوامی معیشت پر منفی اثرات کے نتیجہ میں پاکستان سے مصنوعات درآمد کرنے والے کئی بڑے درآمد کنندگان نے اپنے آرڈرز مؤخر یا منسوخ کر دیئے ہیں جس کی وجہ سے قومی برآمدات 54 فیصد کی کمی سے 957 ملین ڈالر تک کم ہو گئیں۔

اپریل 2019ء کے دوران 2.08 ارب ڈالر کی برآمدات کی گئی تھیں۔ اس طرح اپریل 2019ء کے مقابلہ میں اپریل 2020ء کے دوران ملکی برآمدات میں 54 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

اسی طرح سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جاری مالی سال کے دوران افغانستان کو کی جانے والی ملکی برآمدات میں 10.37 فیصد کمی ہوئی ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران برآمدات کا حجم 789.437 ملین ڈالر تک کم ہو گیا جبکہ گذشتہ مالی سال میں جولائی تا مارچ 2018-19ء کے دوران افغانستان کو 885.779 ملین ڈالر کی برآمدات کی گئی تھیں۔

اس طرح گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال کے دوران برآمدات میں 96.342 ملین ڈالر یعنی 10 فیصد سے زیادہ کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا میں تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر حالات میں بہتری نہ آئی تو رواں سال 2020ء کے دوران عالمی تجارت میں 13 تا 32 فیصد کمی کا خدشہ ہے تاہم 2021ء میں بہتری متوقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی وباء سے کم متاثرہ ممالک میں بھی عالمی سپلائی چین سے منسلک پروڈیوسرز کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکہ، چین، جاپان، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور اٹلی جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی کووڈ۔19 کی حالیہ وباء سے متاثر ہوئے ہیں۔

ان ممالک کا مجموعی عالمی پیداوار (جی ڈی پی) میں حصہ 60 فیصد ہے جبکہ مینوفیکچرنگ کی تجارت میں ان ممالک کا حصہ 65 فیصد ہے اور مینوفیکچرنگ کے شعبہ کی عالمی برآمدات میں 40 فیصد حصہ ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here