کمپنیوں کو انشورنس کلیمز کیلئے ڈیجیٹل طریقہ اپنانے، غیر اہم دستاویزات کی شرائط نظر انداز کرنے کی ہدایت

58

اسلام آباد: کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال میں انشورنس پالیسی ہولڈرز کو سہولت اور آسانی فراہم کرنے کیلئے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے انشورنس کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ انشورنس کلیمز کی درخواستوں کی پروسیسنگ کیلئے غیر اہم دستاویزات کی فراہمی کی شرائط کو نظر انداز کریں۔

کمپنیوں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ کلیم درخواستوں کی تصدیق کیلئے روایتی طریقوں کے برعکس نئے ڈیجیٹل اور آسان متبادل طریق بروئے کار لائیں۔ اس کے ساتھ ہی ایس ای سی پی نے کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ انشورنس پالیسیوں کی تجدید کے پریمیئم کی اقساط کی ادائیگیوں کو صارفین کو رعایتی مدت فراہم کریں۔

انشورنس کمپنیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ پریمیئم کی وصولیوں اور کلیم کی ادائیگیوں کیلئے الیکٹرانک ذرائع استعمال کریں اور اس سلسلے میں تصدیق کے لئے ای میل، ایس ایم ایس اور دیگر آن لائن سہولتوں سے استفادہ کریں۔

اس کے علاوہ ہیلتھ انشورنس کروانے والے صارفین کو بہتر اور آسان سہولت کی فراہمی کیلئے انشورنس کمپنیاں مذکورہ صارفین کے علاج کیلئے ہسپتالوں کو ڈیجیٹل ذرائع سے منظوری اور ہدایات جاری کریں۔

یہ بھی پڑھیے: غلط بیانی سے انشورنس پالیسیوں کی فروخت روکنے کیلئے نئے ریگولیشنز جاری 

کورونا وائرس کے روک تھام کیلئے کئے گئے لاک ڈاون کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک کے بہاؤ میں کافی کمی رہی جس کی وجہ سے گاڑیوں کی انشورنس کے دعوئوں میں بھی میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ایس ای سی پی نے انشورنس کمپنیوں کو کہا ہے کہ گاڑیوں کی انشورنس کے کم دعووں کی وجہ سے ہونے والے فوائد کو صارفین کو منتقل کیے جائیں اور موٹر انشورنس صارفین کی کوریج کی مدت میں ایک ماہ کا اضافہ بلا معاوضہ کیا جائے۔

اسی طرح سے کمپنیوں کو آسانی فراہم کرنے کیلئے انشورنس بروکروں، سرویئرز اور منظور شدہ سروئیر آفیسر، جن کے لائسنسوں کی تجدید مارچ کی 15 تاریخ سے مئی 15 کے دوران ہونی تھی، انہیں دو ماہ کی رعایتی توسیع دے دی گئی ہے اور وہ اس مدت کے دوران بغیر تجدید کے اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایس ای سی پی نے انشورنس کمپنیوں کو IFRS-16 کے اکاوئنٹنگ معیارات پر عملدرآمد میں آئندہ برس جون تک توسیع کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: لائف انشورنس کمپنیاں کیسے جعلسازی کرتی ہیں؟

دوسری جانب ایف پی سی سی آئی مرکزی قائمہ کمیٹی برائے انشورنس کے کنوینر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل کی جانب سے وڈیو لنک پر منعقدہ ایک مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے انشورنس کنسلٹنٹ اور چار ٹرڈ اکاؤنٹنٹ طارق حسین نے کہا کہ انشورنس کا بنیادی مقصد نقصانات بانٹ کر لوگوں کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دینا ہے مگر پاکستان میں اسے غیر اسلامی سمجھا جاتا ہے اس لئے اسلامی انشورنس انڈسٹری اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انشورنس کا حجم جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم ہے اس لئے عوام اور کاروباری برادری کو خود نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ لائف انشورنس میں ایک کمپنی کے پاس پچاس فیصد سے زیادہ حصہ ہے جنرل انشورنس میں ننانوے فیصد کاروبار چار کمپنیوں کے ہاتھ میں ہے جبکہ باقی ماندہ بیس سے زیادہ کمپنیوں کو ایک فیصد حصہ پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔

اس موقع پر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ انشورنس کمپنیوں کے لئے قوائد میں نرمی کی جائے کیونکہ سخت قوانین سے بہت سے کمپنیاں دیوالیہ ہو گئی ہیں۔ وائرس کی وباء کے بعد نئی مصنوعات روشناس کروانے کی ضرورت ہے جس میں انشورنس انڈسٹری زیادہ دلچسپی نہیں لے رہی ہے جبکہ مختلف کمپنیوں کے مابین پریمیم کی جنگ بھی اس شعبہ کو کمزور کر رہی ہے جس کے لئے کسی مکینزم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹی کمپنیوں کے لئے قوانین نرم کر کے انھیں مائیکرو انشورنس کے شعبہ میں کام کرنے کا بھرپور موقع دیا جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here