‘پاکستان کے 1.8 ارب ڈالر کے قرضے ری شیڈول ہوگئے’ 

گروپ 20 فورم بھی پاکستان قرضوں کی ری شیڈولنگ کا حامی ہے، عبدالحفیظ شیخ کی جرمنی و فرانس کے سفیروں سے ملاقات میں گفتگو، معاونت کی پیشکش پردونوں ممالک کا شکریہ اداکیا

880

اسلام آباد: وزیراعظم کے  مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ سخت مالیاتی نظم و ضبط کے باعث جاری مالی سال میں ہم 3 فیصد بڑھوتری کی توقع کر رہے تھے تاہم وباء کے بعد بڑھوتری کے اہداف کا حصول ممکن نہیں ہے، جاری حالات کے باعث بڑھوتری کی شرح منفی ایک تا منفی ایک اعشاریہ پانچ تک رہنے کا امکان ہے، گروپ 20 فورم بھی پاکستان قرضوں کی ری شیڈولنگ کا حامی ہے۔

سوموار کو پاکستان میں جرمنی کے سفیر برن ہارڈ سٹیفن شالجیک، فرانس کے سفیرڈاکٹر مارک بیریٹی اور فرانسیسی سفارتخانہ کے اقتصادی قونصلر اینزبوئٹرے سے ملاقات میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے سفارتکاروں کو کورونا وائرس کی وباء کے تناظر میں ملک کی مجموعی اقتصادی منظرنامہ اورمستقبل میں معیشت پرممکنہ اثرات سے آگاہ کیا۔

غیرملکی سفیروں نے وزیراعظم کے مشیر سے گروپ 20 کی جانب سے قرضوں کی ری شیڈولنگ اورمزید قرضوں سے متعلق امورپربات چیت کی۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ گروپ 20 فورم پاکستان قرضوں کی ری شیڈولنگ کا حامی ہے کیونکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ غریب ممالک کو اس معاونت کی جائز طورپر ضرورت ہے اگرچہ پاکستان اس ریلیف سے کم فیض یاب ہواہے۔

انہوں نے کہا کہ چین، سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک کے واجب الادا 1.8 ارب ڈالر کے قرضے ری شیڈول ہوئے ہیں، پاکستان نے اب تک کمرشل قرضوں کی ری شیڈولنگ کی درخواست نہیں کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ اضافی قرضوں کی منصوبہ بندی میں ڈیبٹ لمیٹیشن ایکٹ کے مطابق اقدامات کرے گی کیونکہ نئے قرضے کا ایک بڑا حصہ پرانے قرضوں کی ادائیگی پرخرچ ہوگا۔

انہوں نے سفارت کاروں کو بتایا کہ وباء سے قبل پاکستان کی معیشت استحکام کی طرف گامزن تھی، حکومت نے حسابات جاریہ کے خسارے پرقابو پانے میں کامیابی حاصل کی تھی، سخت مالیاتی نظم وضبط کے باعث جاری مالی سال میں ہم 3 فیصد بڑھوتری کی توقع کررہے تھے تاہم وباء کے بعد بڑھوتری کے اہداف کا حصول ممکن نہیں ہے، جاری حالات کے باعث بڑھوتری کی شرح منفی ایک تا منفی ایک اعشاریہ پانچ تک رہنے کا امکان ہے۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے سفیروں کو معاشرے کے غریب اورکمزور طبقات کیلئے وزیراعظم کے احساس پروگرام کے تحت امدادی پیکج اور چھوٹے و درمیانہ درجہ کے کاروبارکے فروغ کیلئے حکومت کی جانب سے اٹھائے جانیوالے اقدامات سے آگاہ کیا۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے دوست ممالک کی جانب سے معاونت کی پیشکش پردونوں ممالک کا شکریہ اداکیا اوراس امید کااظہارکیاکہ پاکستان، فرانس اورجرمنی کے درمیان تعاون سے تینوں ممالک کے عوام کویکساں فائدہ پہنچے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here