مچھائی ہائیڈل سے لاکھوں یونٹس بجلی کی فراہمی کے باوجود خیبر پختونخوا معاوضے سے محروم

نیپرا سے بجلی معاہدے کی خریداری کے بنا ہی قومی گرڈ میں ایک کروڑ تیس لاکھ یونٹس بجلی شامل کی گئی، وفاق کے ذمے 7 کروڑ سے زائد کا معاوضہ ادا نہ ہونے کے باعث صوبہ مالی مسائل کا شکار

150

پشاور: مچھائی ہائیڈل پاور پراجیکٹ سے نیشنل گرڈ کو لاکھوں یونٹس بجلی کی فراہمی کے باوجود وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کو معاوضے کی ادائیگی نہ کی جا سکی۔

2.6 میگاواٹ کا مچھائی ہائیڈل پاورمنصوبہ ساڑھے تین سال قبل مکمل ہوا اور اس سے اب تک نیشنل گرڈ کو ایک کروڑ 30 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی جا چکی ہے۔

683.50 ملین روپے لاگت کے منصوبے کی تکمیل کے باوجود صوبے کو بجلی کی کمی اور مالی مسائل کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان کے 1.8 ارب ڈالر کے قرضے ری شیڈول ہوگئے

16 ٹرینیں نجی شعبے کے حوالے، پاکستان ریلوے کا منصوبہ حتمی مرحلے میں داخل

دیامر بھاشا ڈیم منصوبے پر اب تک 99 ارب روپے خرچ کیے جا چکے

ذرائع کے مطابق نیپرا کی جانب سے بجلی کی خریداری کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہ ہونے کے باوجود اس منصوبے سے قومی گرڈ کو لاکھوں یونٹس بجلی فراہم کی جا چکی ہے جس کی مد میں وفاق کے ذمے صوبے کے 7 کروڑ تین لاکھ روپے واجب الادا ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ بجلی خریداری کے معاہدے کے لیے نیپرا کی جانب سے منصوبے کے حوالے سے جامع معلوماتی رپورٹ طلب کرلی گئی ہے۔

پیسکواور صوبائی حکام کے درمیان ملاقات میں حکومتی ٹیم نے پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی سے درخواست کی کہ وفاق سے بجلی کی مد میں رکی ہوئی رقم جاری کروانے میں مدد کی جائے۔

جس پر پیسکو نے اس حوالے سے نیپرا کو خط لکھنے اور معاہدے پر دستخط کرنے پر رضا مندی ظاہر کردی، تاہم لاک ڈاؤن کے باعث پیسکو نیپرا سے اس حوالے سے رابطہ نہیں کرسکی اور منصوبے سے بجلی بغیر کسی معاہدے کے قومی گرڈ کو فراہم کی جاتی رہی۔

اس حوالے سے وزیراعلیٰ کے پی کے مشیر برائے توانائی حمید اللہ خان اور کے پی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر سے رابطہ کرنے کی بارہا کوشش کی گئی مگر کامیابی نہ مل سکی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی مسائل کی شکار کے پی حکومت نے وفاق کی جانب سے بجلی کی مد میں واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے صوبے میں کئی ترقیاتی منصوبے مؤخر کردیے ہیں۔

ماضی میں وفاق کی جانب سے اس ضمن میں صوبے کو اربوں روپے کی ادائیگیاں کی جاتی رہیں مگر اب جب مرکز اور صوبے میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہے تو صوبہ اپنے جائز حق سے محروم ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here