ایک عرصے سے ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ مستقبل میں سب کچھ آن لائن ہو جائے گا، یہ سچ ہے کہ موجودہ دور میں انٹرنیٹ نے گزشتہ عشرے کی بہت سی چیزوں کو ختم کردیا ہے، گروسری شاپنگ سے لے کر پڑھنے پڑھانے تک ہر کام آن لائن کیا جا سکتا ہے لیکن یہ سب کچھ اپنی اصل شکل میں وقوع پذیر نہیں ہوا بلکہ حالات ہی ایسے خطرناک اور تباہ کن پیدا ہو گئے کہ  ہر کسی کو یہ تبدیلی قبول کرنا پڑی اور سبھی لاعلمی میں پکڑے گئے۔

چوں کہ مصنوعات کی آن لائن ڈلیوری میں کافی اضافہ ہو گیا ہے اور ‘کنٹیکٹ لیس ڈلیوری’ جیسے جدید طریقے معمول کا حصہ بن گئے ہیں تو کمپنیاں ناصرف اس سے نبردآزما ہونے کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگھا رہی ہیں بلکہ اپنے بنیادی ڈھانچے اور بزنس ماڈل کو بھی تبدیل کر رہی ہیں۔

دراز اور ‘چیتے’ ایسی ہی ای کامرس ریٹیل کمپنیاں ہیں، دونوں کا کام مختلف نوعیت کا ہے، دراز ملک کی سب سے بڑی آئن لائن ریٹیل کمپنی ہے جبکہ چیتے تیزی سے ترقی کرتی ڈلیوری اینڈ لاجسٹکس سروسز فراہم کرنے والی کمپنی ہے، لیکن اِن دنوں چوں کہ آن لائن کاروبار اور ڈلیوری کا کام بڑھ گیا ہے تو دونوں کمپنیاں ایک دوسرے کی کام میں گھسنے کیلئے کاروبار کو توسیع دے رہی ہیں۔

لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ حالیہ وبا کے دِنوں میں ای کامرس سے متعلق کاروبار کیا شکل اختیار کریں گے اور اس کاروبار سے وابستہ کمپنیاں وائرس سے بچائو کیلئے کیا اقدامات کریں گی؟ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سب کچھ بالکل اچانک ہو رہا ہے تو کیا کمپنیاں اس صورت حال کیلئے تیار ہیں؟ کیونکہ یہ شائد صدی میں پہلی بار والا واقعہ ہے، کیا پاکستانی ای کامرس کمپنیاں اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں یا پھر موقع گنوا بیٹھیں گی؟

سب کچھ عجیب و غریب ہو رہا ہے

کنٹیکٹ لیس (بے رابطہ) ڈلیوری بالکل عجیب تصور ہے، وباء سے تباہ حال دنیا میں یہ شائد سب سے خوف پیدا کرنے والا احساس ہے، سنسان گلیاں، کھیلوں کے خاموش میدان، اکیلے جنازے سب کچھ خوفناک اور پراسرا ہے لیکن خاموشی کی اپنی الگ زبان ہوتی ہے، کبھی کبھی خاموشی کسی طوفان یا تباہی کی آمد کا پیام ہوتی ہے۔

کنٹیکٹ لیس ڈلیوری کا مطلب انسانوں سے روبوٹ کی طرح کا کام لینا ہے، اس کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں، مثال کے طور پراگر آپ کوئی چیز منگواتے ہیں اور پہلے سے ہی کارڈ کے ذریعے ادائیگی کر دیتے ہیں تو آپ کو ڈلیوری سروس کے رائیڈر کی شکل تک دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، وہ آپ کا سامان آپ کے دروازے پر چھوڑ جائے گا۔

ماجد خان، سی ای او چیتے

دوسری مثال یہ ہے کہ رائیڈر ماسک اور گلوز وغیرہ پہن کر آتا ہے، آپ کے گھر کی گھنٹی بجاتا ہے، آپ آتے ہیں تو دروازے سے مناسب فاصلے پر کھڑا ہو کر سامان نیچے رکھ دیتا ہے آپ سامان اٹھا لیتے ہیں اور اسی طریقے سے رقم نیچے رکھ دیتے ہیں، ریزگاری اور ٹپ وغیرہ کا عمل بھی یوں ہی انجام پاتا ہے اور دونوں اپنی اپنی راہ لیتے ہیں۔

یہ دونوں مثالیں ہیں تو عجیب، لیکن اب انسانی ضرورت بن چکی ہیں، اب جبکہ ماہرین وائرس کی دوسری لہر کے بارے میں باخبر کر چکے ہیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ایسے رواج کس طرح پروان چڑھ جاتے ہیں جو ہمیں عجیب لگ رہے ہوتے ہیں۔

یہ (کنٹیکٹ لیس ڈلیوری) روایت بنے گی یا نہیں، کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے، لیکن پاکستان میں یہ کام تیزی سے جاری ہے اور چیتے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ماجد خان کے مطابق ان کی کمپنی نے سب سے پہلے ملک میں اس طرز کی ڈلیوری سروس شروع کی اور یہ اب چل نکلی ہے۔

انہوں نے کہا، “ہم نے کچھ پک اینڈ ڈراپ پوائنٹس کا انتخاب کیا اور ہمارے رائیڈرز چیز بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں سے چھ فٹ دور رہ کر ڈلیور کرتے ہیں، لاک ڈائون کی وجہ سے آرڈرز میں کمی آئی ہے لیکن ہماری حکمت عملی کی وجہ سے ہمارے آرڈرز میں 10 فیصد اضافہ ہو گیا ہے، ہم نے Pantry کے نام سے گروسری کی ترسیل بھی شروع کی ہے اور اسے بھی لوگوں کی جانب سے حوصلہ افزاء ردعمل ملا ہے۔”

یہ بھی پڑھیے: ڈالر: خریدیں، فروخت کریں یا ذخیرہ کریں؟

جیسے ہی ملک میں کورونا کا خوف پھیلا تو ای کامرس کمپنیوں نے بڑی تیزی سے کنٹیکٹ لیس ڈلیوری کا طریقہ نکالا اور پھر جب دیکھا کہ سب کچھ بند ہے تو گروسری کی اشیاء کی ترسیل بھی شروع کردی، یہاں تک کہ فوڈ پانڈہ جیسی کمپنی نے فوڈ پانڈہ مارٹ کے نام سے ‘کنٹیکٹ لیس گروسری ڈلیوری سروس’ شروع کر دی۔

اب جبکہ ای کامرس کمپنیاں موجودہ صورت حال کی وجہ سے تیزی سے جدت اختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، یہاں تک کہ کئی چھوٹی بڑی کمپنیاں راتوں رات اس میدان میں نکل آئی ہیں تو ترقی کی حکمت عملی اور منصوبے جو اِن کمپنیوں نے آئندہ سالوں کیلئے رکھ چھوڑے تھے ان پر اب عمل کرنا پڑ رہا ہے۔

اس حوالے سے دراز کے مینجنگ ڈائریکٹر احسان سایا کہتے ہیں کہ “کووڈ 19 نے ہر کمپنی کو کسی حد تک متاثر کیا ہے لیکن ایک بڑی کمپنی کی انتظامیہ کے طور پر ہمارے ذہنوں میں جو اولین خیال تھا وہ اس وائرس سے اپنے کسٹمرز، سیلرز اور ملازمین کا تحفظ یقینی بنانے کا تھا۔”

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے ابتدائی دنوں میں کافی افراتفری تھی لیکن اس کے بعد جیسے ہی کچھ بہتری کے آثار نمودار ہوئے تو ہمیں لگا کہ اب بھی لوگ گروسری جیسی ضروری اشیاء خریدنے کے ساتھ  کافی کچھ غیر ضروری خرید رہے تھے، ‘کسٹمرز ہینڈ سینی ٹائزر اور گروسری آئیٹمز کے علاوہ فون بھی خریدنا چاہتے تھے، ہم نے محفوظ ڈلیوریز کے ساتھ اس چیز کو بھی یقینی بنایا کہ کسٹمرز کو ان کی ضرورت کی ہر چیز ملے۔’

لیکن یہ سب کچھ اتنا آسان نہ تھا، دراز کے سی ای اوBjarke Mikkelsen کہتے ہیں کہ درمیان میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب چیزوں کی ڈیمانڈ بڑھنے کی وجہ سے افرتفری کی کیفیت تھی اور کمپنی صارفین کی ڈیمانڈ پوری کرنے کی کوشش میں لگی تھی۔

انہوں نے کہا ‘میرے خیال میں تین ہفتے ایسے تھے جب ہر شام 8 سے 10 بجے تک دو گھنٹے ہم صرف اور صرف سپلائی چین کو برقرار رکھنے اور کسٹمرز کی ڈیمانڈ کے مطابق مصنوعات کو دستیاب بنانے کے حوالے سے بات چیت کرتے تھے، یہ بھی سوچتے تھے کہ گلیوں میں جانے کیلئے حکومت سے اجازت نامہ کیسے لیں، اپنے ملازمین اور ان کی فیمیلز کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جائے کیونکہ وہ کسٹمرز سے براہ راست مل رہے ہوتے تھے، ہیومن ریسورس کے بارے میں بات کرتے تھے کہ گھر سے کام یا اے بی شفٹس میں کام کو کیسے ممکن بنایا جائے تا کہ دفتر وائرس سے محفوظ رہے۔’

بحران کے دور میں مینجمنٹ کیسے کریں؟

ظاہر ہے یہ مناسب سوالات تھے، ملازمین اور کسٹمرز کا تحفظ آپ کی ذمہ داری ہوتی ہے اور کاروبار کیلئے بھی مفید ہے، تصور کریں آپ کا ایک رائیڈر کورونا کا شکار ہو جاتا ہے اس کا مطلب ہے وئیر ہائوس پر کام کرنے والے تمام ملازمین اور اسے ملنے والے دیگر رائیڈرز کو ناصرف آئسولیٹ ہونا پڑے گا بلکہ ٹیسٹ بھی کروانا ہوں گے، وائرس پوری کمپنی میں پھیل جائے تو سزائے موت کے مترادف ہوگا، اس لیے فائدہ اسی میں ہے کہ ملازمین اور صارفین کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔

لیکن ایک دوسری حقیقت یہ بھی ہے کہ ای کامرس کی ترقی کا بھی یہی وقت ہے، گو کہ ملنے جلنے پر خطرات ہیں لیکن یہی وقت ان کیلئے مواقع لے کر آیا ہے۔

اس حوالے سے چیتے کی انتظامیہ کا کہنا ہے گو کہ ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا ہے لیکن وہ صورت حال کو متوازن رکھنے کیلئے سخت نگرانی بھی کر رہے ہیں، سی ای او کے مطابق ‘کمپنی پر بوجھ کم کرنے اور صارفین کا تحفظ  یقینی بنانے کیلئے ہم نے تیزی سے اپنی سروسز کو توسیع دی ہے اور پینٹری اور فارما کو بھی شامل کیا ہے تاکہ لوگوں کو گروسری اور ادویات گھر بیٹھے مل سکیں، کام کے گھنٹے بھی بڑھائے ہیں تاکہ ہنگامی حالت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مدد کر سکیں۔’

یہ بھی پڑھیے: کووڈ 19 سے ریٹیل سیکٹر شدید متاثر، لیکن ’سو کمال ‘ جیسے برانڈ عالمی وباء کا مقابلہ کیسے کر رہے ہیں؟

ماجد خان کے مطابق سماجی میل جول سے بچنے کیلئے ناصرف ڈیجیٹیل ادائیگیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے اور کمپنی کریڈٹ کارڈز، ماسٹر کارڈ کیو آر، سم سم اور جاز کیش سے ادائیگیاں قبول کر رہی ہے بلکہ بینک الفلاح کے ساتھ اشتراک سے ماسٹرکارڈ کیو آر سے ادائیگی کرنے والے کو 50 فیصد رقم واپسی کی آفر بھی دے رہے ہیں۔

لیکن صرف ڈیجیٹل ادائیگیوں اور ملازمین کا ٹمپریچر چیک کرنے سے ہی ای کامرس کی نوعیت تبدیل نہیں ہو رہی بلکہ دراز کے سی ای او کے مطابق ‘کافی چیزیں ہیں جن کا موجودہ صورت حال میں کام کرنے کیلئے ازسرنو جائزہ لینا پڑا، مثال کے طور پر گھر سے کام کی وجہ سے ابتداء میں ہم نے ملازمین کی استعداد کار میں اضافہ دیکھا کیونکہ انہیں روزانہ گھنٹوں ٹریفک میں خوار نہیں ہونا پڑتا اور دفتر کے شوروغل سے بھی جان چھوٹ چھوٹ گئی۔’

احسان سایا، مینجنگ ڈائریکٹر دراز پاکستان

احسان سایا کہتے ہیں کہ اکثرلوگ اب بھی غیر ضروری اشیاء کی آن لائن ڈیمانڈ کرتے نظرآتے ہیں، کورونا کی صورت حال میں ضروری اشیاء کی طلب میں 35 سے 40 فیصد تک اضاٖفہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس طلب کو پورا کرنا بےحد مشکل ہوتا جا رہا ہے، لوگ چیزیں زیادہ مقدار میں خرید رہے ہیں تاکہ انہیں دوبارہ سے آرڈر نہ کرنا پڑے اور یہ چیز کمپنی کیلئے مفید بھی ثابت ہو رہی ہے لیکن اس سے ایک خطرناک رجحان یہ جنم لے رہا ہے کہ ضرورت سے زیادہ خریداری کی وجہ سے اشیاء کی قلت پیدا ہو سکتی ہے اور پاکستان اس صورت حال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

لوگوں کی جانب سے ضرورت سے زیادہ خریداری کو آن لائن کنٹرول کیا جا سکتا ہے لیکن طلب کے حساب سے کم وقت میں سپلائی کو بڑھانا ممکن نہیں، دراز نے کسٹمرز کو پھلوں اور سبزیوں کی سپلائی کیلئے ‘ڈی مارٹ چینل’ بنایا  لیکن یہ تجربہ کچھ زیادہ کامیاب نہیں رہا اور احسان سایا کے مطابق وہ حد سے زیادہ بڑھی ہوئی ڈیمانڈ کو پورا نہیں کر سکے۔

کسٹمرز کی ڈیمانڈ کو پورا نہ کر پانا ای کامرس انڈسٹری کیلئے نیگ شگون نہیں، چیتے نے سپلائی سے متعلق مسائل کے بارے میں واضح طور پر کبھی کچھ نہیں کہا لیکن یہ ضرور کہا کہ حکومت ذخیرہ اندوزی ختم کرے۔

دراز کے ایم ڈی احسان سایا نے کہا، ‘آپ جانتے ہوں گے کہ رسد میں کمی واقعی ایک مسئلہ ہے، میری ایک کمپنی کے ذمہ داران سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ان کی جو پروڈکٹ فروخت ہونے میں چھ ماہ لگ جاتے تھے، موجودہ صورتحال میں محض تین دن میں فروخت ہو گئی۔ رسد کی کمی جیسے مسئلے پر قابو پانے کیلئے ہم چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو آگے لائے ہیں۔’

کیا کورونا کے بعد کا منظر نامہ بھی اب جیسا ہی ہوگا؟

گو کہ اس حوالے سے کافی بات ہو چکی ہے کہ کیا جو طور طریقے اب اپنائے جا رہے ہیں یہ وائرس ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہیں گے؟ ای کامرس کمپنیوں کو اس میں امید کی کرن دکھائی دیتی ہے۔ چیتے کے سی ای او ماجد خان کے مطابق اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستانیوں کا ای کامرس کی جانب رجحان بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ماجد خان نے پرافٹ اردو کو بتایا “ہم نے دیکھا ہے کہ ماضی میں جو لوگ آن لائن آرڈر کرتے ڈرتے تھے وہ اب ہمارے پلیٹ فارم پر زیادہ سے زیادہ آرڈر کرتے ہیں، لوگ گھروں سے نکلنے کی بجائے بیٹھے بٹھائے اشیائے خورو نوش منگوا رہے ہیں اور گروسری سے متعلق آرڈرز کی تو بھرمار ہے، اسی لیے زیادہ سے کمپنیاں اور ڈیپارٹمنٹل سٹورز ہمارے ساتھ منسلک ہو رہے ہیں۔”

سی ای او دراز ایشیا Bjarke Mikkelson

ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ سالوں میں زیادہ سے زیادہ برانڈ ڈیجیٹل ہو جائیں گے بلکہ روایتی وینڈرز کو بھی ای کامرس کی جانب آنا ہوگا، پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے مطابق لاک ڈائون کے دوران پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے، اس میں مزید اضافہ ہوگا اور برانڈز کو بھی اپنی مارکیٹنگ اور کمیونیکیشن کی ساری کوششیں آن لائن صرف کرنا پڑیں گی۔

تاہم دراز کی ٹیم کچھ محتاط دکھائی دیتی ہے، ان کی تشویش فطری ہے، بڑی کمپنی ہونے کے ناطے صورت حال کا مقابلہ کر سکتی ہے، لیکن اگر معیشت کا رخ تنزلی کی جانب ہی رہتا ہے تو کیا اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ بھی سخت مشکلات کا شکار ہوں گے؟

فی الحال دراز کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ مشکل وقت میں اپنے آپریشنز کے تسلسل کیلئے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں تاہم مستقبل کے خطرات سے بھی آگاہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: تبدیل ہوتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا۔۔۔ کیا آپ خطرے کی زد پر تو نہیں؟

احسان سایا کے مطابق ‘لاک ڈائون نے ہمیں واقعی متاثر کیا ہے اور کسی حد تک ہم نے یہ سوچنا شروع کیا تھا کہ لوگ کمائیں گے کیسے؟ خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، کیونکہ بےشمار لوگوں کا روزگار ایسے ہی کاروباروں سے وابستہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم نے ایسے کاروباروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا سوچا۔’

دراز کے سی ای او کو امید ہے کہ حالیہ مشکل وقت میں ضروری اشیاء فراہم کرنے پر کسٹمرز کے کمپنی پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، یہ طویل المدتی فائدہ ہے لیکن جس مسئلے کا دراز سمیت دیگر کمپنیوں کو سامنا ہے وہ ہے معاشی جمود، اس لیے ہماری ساری توجہ اس بات پر ہے کہ بطور ایک کمپنی معیشت کی بحالی میں کس طرح حصہ ڈالیں۔

 تاہم کچھ بہتری کے آثار اب بھی نظر آ رہے ہیں، ہو سکتا ہے اگر کورونا کی وبا جاری رہے تو ای کامرس یوں ہی فروغ پذیر رہے، لیکن کمپنیوں کیلئے سب سے اہم چیز یہ ہوگی کہ وہ تاریخ کی درست سمت کھڑی ہوں اور امید کا دامن تھامے رکھیں۔

دراز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے ای کامرس سیکٹر کیلئے بہت زیادہ پرامید ہیں، اگر حالیہ صورتحال طویل مدت کیلئے برقرار رہی تو شائد آف لائن کی بجائے آن لائن خریداری میں مزید تیزی آئے، اب ہم سپلائی چین کا سب سے زیادہ خیال رکھ رہے ہیں کیونکہ چھوٹے ریٹیلرز اور بڑے برانڈز بہت زیادہ تعداد میں دراز کے ساتھ منسلک ہو رہے ہیں اس طرح ہم مکمل طور پر ای کامرس کی جانب توجہ دینے کی بجائے آف لائن کاروبار پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here