فلپ مورس کا پاکستان میں ‘ہیٹڈ ٹوبیکو ڈیوائس’ متعارف کروانے کا منصوبہ

151

اسلام آباد: فلپ مورس (پاکستان) لمیٹڈ نے کہا ہے کہ ان کی کمپنی سگریٹس کا متبادل متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

فلپ مورس لمیٹڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر رومان یزبیک (Roman Yazbeck) کے مطابق کمپنی کی نئی پروڈکٹ امریکی حکام کی جانب سے گزشتہ سال اجازت حاصل کر چکی ہے، اگر حکومت مطلوبہ قانون سازی کرے اور اجازت دے تو پاکستان میں مذکورہ پروڈکٹ متعارف کرائی جا سکتی ہے۔

31 اپریل 2019ء کو امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے iQOS (ایک قسم کی ڈیوائس) کو مارکیٹ میں پیش کرنے کی اجازت دی تھی، یہ تمباکو کو جلائے بغیر اسے گرم کر دیتی ہے۔ اسے سائنسی اعتبار سے روایتی سگریٹ کے مقابلے میں زیادہ محفوظ قرار دیا گیا ہے۔

رومان یزبیک نے کہا”ہم سعودی عرب سمیت 53 ممالک میں اپنی پروڈکٹ متعارف کروا چکے ہیں اور اب پاکستان میں بھی لانے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن اس کی مارکیٹ میں تقسیم کیلئے کچھ قانون سازی کی جانا ضروری ہے۔”

یہ بھی پڑھیے:

 اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایف بی آر کو سگریٹ ٹریکنگ سسٹم کی نئے سرے سے بولی کا حکم

حکومت سگریٹ اور کولڈ ڈرنک پر ٹیکس لگانے میں ناکام

 انہوں نے کہا کہ کم خطرناک مصنوعات کا فروغ ان کی کمپنی کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے گزشتہ 10 سالوں کے دوران کمپنی سات ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کر چکی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ایم ڈی فلپ مورس نے کہا کہ موجودہ صورتحال اور تمباکو کے غیرقانونی کاروبار جیسے چیلنج کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان کی کمپنی کے پاس مستقبل قریب میں پاکستان میں سرمایہ کاری کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ حکومت بھی ملک میں سگریٹ نوشی کم کرنے کیلئے نت نئے ٹیکسز لگا رہی ہے تاہم ٹیکسوں کی زیادتی سے سگریٹ اور تمباکو کے غیر قانونی کاروبار کو خوب فائدہ پہنچا ہے اور اس کا شئیر 40 فیصد کے لگ بھگ ہو گیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ یہ 40 فیصد وہ کاروبار ہیں جو مقامی طور پر سگریٹ تیار کرتے ہیں لیکن نہ صرف کم پیداور اور انوائس دکھا کر ٹیکس چوری کر رہے ہیں بلکہ سگریٹس کم قیمتوں پر فروخت کر رہے ہیں جو کہ ملکی قانون کی خلاف ورزی ہے اور اس سے قومی خزانے کو سالانہ 40 سے 45 ارب روپے نقصان ہو رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here