جاپان میں  کورونا کے نئے علاج کے امکانات، ریمیڈی سیوئر کے استعمال کی منظوری

188

ٹوکیو: جاپان میں طبی کارکنان کو کووڈ 19 کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک نیا ہتھیار فراہم کیا جا رہا ہے۔ وزارت صحت نے وائرس کے علاج کے لیے ایک اینٹی وائرل دوا کی منظوری دے کر ایک نیا قدم اٹھایا ہے۔

جاپانی نشریاتی ادارے کے مطابق جاپان نے ریمیڈی سیوئر کے استعمال کی ترجیحی بنیادوں پر منظوری دی ہے۔

امریکہ نے ہنگامی علاج کے لیے رواں ماہ کے آغاز میں اس دوا کی منظوری دی تھی۔ ریمیڈی سیوئر کو امریکہ میں قائم کمپنی گلیئڈ سائنسز نے ایبولا کے علاج کے لیے تیار کیا تھا، تاہم امکان ہے کہ ریمیڈی سیوئر محدود مقدار میں دستیاب ہو گی۔ لہذا حکومت بنیادی طور پر یہ دوا شدید علامات کے حامل مریضوں کا علاج کرنے والے طبی اداروں کو فراہم کرے گی۔

جاپان میں کووڈ 19 کا ایک اور ممکنہ علاج بھی سامنے آیا ہے۔ کیتاساتو یونیورسٹی کے محققین کے ایک گروپ کے مطابق انہوں نے بے اثر کرنے والی اینٹی باڈی مصنوعی طور پر تیار کی ہے۔

محققین کے مطابق معائنوں سے پتہ چلا ہے کہ اینٹی باڈی کے حامل بیشتر خلیے وائرس سے متاثر نہیں پائے گئے۔ خلیوں کے وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں انسانی جسم میں بے اثر کرنے والا اینٹی باڈی تخلیق کیا جاتا ہے۔

یہ اینٹی باڈی وائرس سے پیوست ہو جاتا ہے اور اسے خلیے کی سطح پر ریسپٹر سے جڑنے سے روکتا ہے۔کیتاساتو یونیورسٹی کے پروفیسر کاتایاما کازْوہیکو نے کہا کہ اینٹی باڈی دوا کے تناظر میں اس علاج سے ہمارے آپشنز مزید بڑھ جائیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ایک نئی قسم کا علاج ثابت ہو گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here