کورونا کے بعد چین کی برآمدات بڑھنے سے تیل کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے

برینٹ کروڈ کی قیمت 1.86 ڈالر اضافے کیساتھ 31.58 ڈٓالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 2.04 ڈالر اضافے کے بعد 26.03 ڈالر فی بیرل ہوگئی

178

لندن : کورونا کے بعد چین کی برآمدات بڑھنے، امریکہ کی جانب سے پیداوار میں کمی اور یورپ میں کچھ معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

برینٹ کروڈ کی قیمت 1.86 ڈالر اضافے کیساتھ 31.58 ڈٓالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 2.04 ڈالر اضافے کے بعد 26.03 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

پی وی ایم آئل ایسوسی ایٹس کے اینالسٹ Tamas Varga کا صورتحال بارے کہنا تھا کہ ’’امریکی گیسولین کی بڑھتی مانگ، گرتی سعودی برآمدات اور قدرے مستحکم سٹاک مارکیٹوں کی وجہ سے تیل کی قیمتوں کو کچھ سہارا ملا ہے‘‘۔

چند ایک امریکی ریاستوں کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی  کے باعث امریکی گیسولین کے ذخائر میں دوسرے ہفتے بھی کمی دیکھی گئی، ایسا ان ریاستوں میں سڑکوں پر ٹریفک میں اضافے کے باعث ہوا۔

یہ بھی پڑھیے: 

کورونا کی صورتحال بہتر: ائیر عریبیہ کا پاکستان، بھارت کے لیے ریٹرن ٹکٹ کی بکنگ کھولنے کا فیصلہ

کورونا بحران: چین سے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے قرضوں میں رعایت کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

کورونا، ورلڈ بنک نے پاکستان کے لیے 247.5 ملین ڈالر کا پروگرام تشکیل دے دیا

سعودی عرب نے مئی کی تیل برآمدات میں دہائی کی سب سے زیادہ کمی کرنے کے بعد جون کے لیے قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا ہے جبکہ تیل کی عالمی مارکیٹ میں مانگ اور سپلائی میں فرق تاحال موجود ہے۔

مزید برآں امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق امریکا کے تیل کے ذخائر بھرنے کا عمل مسلسل 15 ویں ہفتے بھی جاری ہے اور ان میں 4.6 ملین بیرل تیل کا اضافہ ہوگیا ہے۔

سٹی ریسرچ کا صورتحال سے متعلق کہنا تھا کہ ’’اس ہفتے کے آغاز پر مارکیٹ میں جذبات کی تبدیلی کے باعث قیمتوں میں کچھ اضافہ ہوا تھا مگر تیل کی بھاری مقدار میں دستیابی ختم ہونے کا فی الحال کوئی امکان نہیں‘‘۔

تیل کی قیمتوں کے موجودہ سطح پر رہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عراق جو کہ اوپیک میں سعودی عرب کے بعد تیل پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے نے ابھی تک تیل کی برآمدات پر لگی پابندیوں سے متعلق کوئی اقدامات نہیں اٹھائے۔

کورونا کے بعد بہتر ہوتی صورتحال کی وجہ سے چین تیل کی برآمدات کے حوالے سے ایک امید بن کر ابھرا تھا، اپریل کے مہینے میں برآمدات 10.42 ملین بیرل یومیہ تک چلی گئی جو کہ مارچ میں 9.68 ملین بیرل یومیہ تھیں ۔

چین کی برآمدات بڑھنے سے تیل کی درآمدات میں کمی کی اُمیدوں کو تھوڑی زک پہنچی ہے مگر کورونا کے باعث معیشتیں کساد بازاری کا شکار ہوچکی ہیں لہٰذا ایندھن کی مانگ کم ہی رہے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here