کورونا بحران: امریکہ میں ہر 5 میں سے ایک گھر کو خوراک کی کمی کا سامنا، لوگ فوڈ بینک اور خیراتی اداروں سے رجوع کرنے پر مجبور

117

نیویارک: رونا وائرس کی عالمی وباء سے سب سے زیادہ نقصان امریکہ کو پہنچا ہے  جہاں متاثرین اور اموات میں خطرنا ک اضافہ کے ساتھ ساتھ معیشت  کو بھی سخت دھچکہ لگا ہے  اور کروڑوں افراد  بے روز گار  ہوگئے ہیں۔

ایک امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک گھر کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔کورونا کی وبا سے پیدا ہونے والے حالات نے امریکہ میں تین کروڑ سے زیادہ لوگوں کو بیروزگار کر دیا  گیا ہے اور یہ لوگ اب کھانے پینے کے لیے فوڈ بینک اور خیراتی اداروں سے رجوع کر رہے ہیں۔

بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے مطابق اکثر لوگوں کے پاس کھانا ختم ہو گیا ہے اور مزید کھانا خریدنے کے پیسے نہیں ہیں اورکم پیسوں کی وجہ سے بچے بھی کم خوراک لے رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ صورتحال 2008ء میں اقتصادی بحران کے دوران صورتحال سے تین گنا زیادہ خراب ہے

یہ بھی پڑھیں:

امریکا میں کورونا وائرس کے باعث 66 لاکھ سے زیادہ ورکرز بے روزگار

کوروناوائرس: جرمنی، فرانس، امریکا، برطانیہ کی معیشتیں بد ترین کساد بازاری کے دہانے پر

کورونا: امریکا کے جی ڈی پی میں 40 فیصد کمی، مالیاتی خسارہ 3.7 کھرب ڈالر ہونے کا امکان

دنیا بھر میں بھی  مہلک وائرس کورونا کے مریضوں کی تعداد 37 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 64 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ روس کے دارالحکومت میں کورونا کے مریضوں کی تعداد سرکاری اندازوں سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے دنیا کے سب سے غیر محفوظ ممالک کے تحفظ اور لاکھوں جانے بچانے کے لیے رکن ممالک سے مزید 470 کروڑ ڈالر کی اپیل کی ہے جس  کا کہنا ہے کہ غیر معمولی اقدامات کیے بغیر دنیا میں کئی مقامات پر قحط آ سکتا ہے اور بھوک و افلاس بڑھ جائے گا۔

دریں اثناء امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس کی کورونا وائرس ٹاسک فورس ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد بنائی جانے والی اگلی ٹاسک فورس کی سربراہی ان کے داماد جیریڈ کشنر کریں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here