نو ماہ میں بجٹ خسارہ 1.68 کھرب روپے تک پہنچ گیا

جولائی سے مارچ تک کے عرصے میں ملکی اخراجات 6 ہزار 376 ارب روپے رہے  جس کے مقابلے میں صرف 4 ہزار 689 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا ہو سکا۔

71

اسلام آباد: وزارت خزانہ کے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے 9 ماہ میں بجٹ خسارہ 1 ہزار 686 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا جو کہ جی ڈی پی کے تین فیصد کے برابر ہے۔

جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جولائی سے مارچ تک کے عرصے میں ملکی اخراجات 6 ہزار 376 ارب روپے رہے  جس کے مقابلے میں صرف 4 ہزار 689 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا ہو سکا۔

1 ہزار 686 ارب روپے کا خسارہ پورا کرنے کے لیے حکومت نے بیرونی ذرائع سے 682 ارب جبکہ مقامی ذرائع سے 1 ہزار تین ارب روپے حاصل کیے۔

6 ہزار 376ارب روپے کے اخراجات میں سے حکومت نے ملکی و غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 1 ہزار 879 ارب روپے جبکہ دفاع کے شعبے پر 802 ارب روپے خرچ کیے۔

واضح رہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں دفاع کے لیے 1 ہزار 152 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

آئندہ بجٹ کی تیاری کے لیےایف بی آر رواں برس کا ریونیو ٹارگٹ پورا نہیں کرپائے گا

کورونا بحران، آئرش ائیرلائن کا تین ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ

ملازمین کو تنخواہیں ادا نہیں کر سکتے، ٹیکسٹائل انڈسٹری کی سندھ ہائی کورٹ میں درخواست

رپورٹ کے مطابق جولائی تا مارچ کے عرصے میں وفاقی حکومت نے ترقیاتی منصوبوں پر 340.4 ارب روپے جبکہ صوبائی حکومتوں نے 382 ارب روپے خرچ کیے۔

اسی طرح حکومت نے پنشنوں کی ادائیگی کے لیے 218.9 ارب روپے ، امن و امان کے قیام کے لیے 72.01 ارب روپے، 31.8 ارب روپے تعلیم کے شعبے پر، صحت کے شعبے پر 5.1 ارب روپے جبکہ مذہب و ثقافت کے شعبے پر 4.3 ارب روپے خرچ کیے ۔

اُدھر اکٹھے کیے گئے 4 ہزار 689 ارب روپے کے ریونیو میں نان ٹیکس ریونیو 1 ہزار 33 ارب روپے ہے۔

اس نان ٹیکس ریونیو میں 70.3 ارب روپے پبلک سیکٹر کے اداروں سے مارک اپ کی صورت میں، 26.05 ارب روپے ڈوی ڈینڈ کی صورت میں، 635.5 ارب روپے اسٹیٹ بنک کے منافعے کی صورت میں، 113.1 ارب روپے پی ٹی اے کے منافعے کی صورت میں ، ڈیفینس سروسز سے 10.8 ارب روپے، پاسپورٹ فیس کی مد میں 16.3 ارب روپے، خام تیل پر ڈسکاؤنٹ کی مد میں 10.5 ارب روپے، تیل اور گیس کی رائلٹی کی صورت میں 65.5 ارب روپے، خام تیل پر ونڈ فال لیوی کی مد میں 4.6 ارب روپے اور 60.1 ارب روپے دیگر ذرائع سے حاصل کیے گئے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مالی سال کے نو مہینوں میں 3 ہزار 44 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا کیا جس میں سے 1 ہزار 146 ارب روپے ڈائریکٹ ٹیکسوں کے ذریعے جبکہ 1 ہزار 898 ارب روپے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی میں اکٹھے کیے گئے۔

پرافٹ اردو سے بات کرتے ہوئے سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال میں حکومتی اخراجات اوربجٹ خسارے کی حتمی تصویر آخری سہ ماہی میں سامنے آئے گی کیونکہ اس وقت حکومت کی جانب سے کورونا بحران سے متاثرہ افراد میں امدادی رقوم تقسیم کی جارہی ہیں۔

انکا مزید کہنا تھا کہ حکومتی اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں جس کے باعث خدشہ ہے کہ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے دس فیصد کے برابر ہوجائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here