کابینہ ارکان کی مخالفت، پاور سیکٹر میں گھپلوں کی تحقیقات 2 ماہ کیلئے ملتوی

معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر سمیت کابینہ کے کئی ارکان تحقیقات کے مخالف، وزیر اعظم کو حکومتی ساکھ متاثر ہونے کا کہہ دیا: ذرائع

98

اسلام آباد: حکومت نے انکوائری کمیشن کی تشکیل اور پاور سیکٹر میں بھاری خرد برد کی تفتیشی رپورٹ دو ماہ کے لیے ملتوی کردی ہے جس سے لگتا ہے حکومت انڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے۔

سامنے آنے والی دستاویزات کے مطابق “آئی پی پیز کے ساتھ بامعنی مذاکرات کیلئے انکوائری کمیشن کی تشکیل دو ماہ کے لیے ملتوی ہونے کا امکان ہے، رپورٹ کے اجراء کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا”۔

ذرائع نے کہا ہے کہ کچھ کابینہ اراکین کی مخالفت کی وجہ سے حکومت آئی پی پیز کے خلاف تحقیقات کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہے کیونکہ ان کے مطابق اگر رپورٹ جاری کی گئی تو حکومت کی ساکھ متاثرہو سکتی ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ڈویژن ندیم بابر نے انکوائری کمیشن کی تشکیل اور انکوائری رپورٹ جاری کرنے کی مخالفت کی تھی، ندیم بابر اوریئنٹ پاور آئی پی پی کے شئیرہولڈر ہیں۔

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے پاور سیکٹر میں نقصانات کے حوالے سے انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر لانے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

آئی پی پیز کیساتھ معاہدوں میں تبدیلی کےذریعے 4 ہزار700 ارب روپے بچائے جا سکتے تھے: رپورٹ

زائد لاگت دکھا کر اربوں بٹورنے کرنے کا انکشاف، انکوائری کمیٹی کی آئی پی پیز سے 100 ارب روپے وصول کرنے کی تجویز

وزیراعظم عمران خان نے سابق چئیرمین سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی سربراہی میں 9 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی جس کا مقصد پاور سیکٹر میں ہونے والے نقصانات کا پتہ چلانا اور آئی پی پیز کے ہائی پرافٹ کی وجہ سے ہونے والی مالی نقصانات کو کم کرنے میں مدد کرنا ہے۔

کمیٹی نے تجویز دی تھی کہ آئی پی پیز کے بنیادی ٹیرف کو امریکی کرنسی کی بجائے پاکستانی روپے میں تبدیل کیا جائے کیونکہ اس کا فائدہ گردشی قرضے میں کمی کی صورت کی ہو گا۔

کمیٹی کے مطابق اگرحکومت آئی پی پیز سے پاکستانی روپے میں بجلی خریدے تو ملک کو آئندہ چند سالوں میں 8 ارب روپے گردشی قرضہ کرنا ہو گا لیکن اگر ٹیرف ڈالر میں رہا تو گردشی قرضہ 3 ہزار 266 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔

رپورٹ میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ آئی پی پیز مالکان کو منافع بھی ڈالر کی بجائے پاکستانی روپوں میں دیا جائے، صرف معاہدے میں کرنسی کی تبدیلی کرکے 4 ہزار 700 روپے کا فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here