آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کا سندھ حکومت سے کام کی اجازت دینے کا مطالبہ

اجازت نہ ملنے کی صورت میں صوبے کی ٹیکسٹائل انڈسٹری بند ہوجائے گی جس سے ملک کو قیمتی زرمبادلہ اور روزگار فراہم کرنے والی برآمدات کو دوبارہ پرانی سطح پر لیجانا مشکل ہوجائے گا : اپٹما

316

کراچی : اپٹما سندھ / بلوچستان کے چئیرمین زاہد مظہر نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا کے باعث بند کیے گئے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے تمام شعبہ جات کو دوبارہ کام کرنے کی اجازت دی جائے۔

انکا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو صوبے کی ٹیکسٹائل انڈسٹری بند ہوجائے گی جس سے بیروزگاری میں اضافہ ہوگا۔

تاہم انہوں نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے سندھ حکومت کے اقدامات کی تعریف کی اور اس سلسلے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا کا معاشی قہر، بنگلہ دیشی ٹیکسٹائل ملازمین تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر سڑکوں پر آگئے

کورونا کا خدشہ، کراچی بندر گاہ کی حدود میں مچھلی کی تجارت پر پابندی

لاہور میں پلاسٹک بیگز استعمال کرنے والے سٹورز سیل کرنے کا حکم

انکا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے کچھ ٹیکسٹائل فیکٹریوں کو کام کرنے کی پہلے ہی اجازت دے رکھی ہے مگر یہ صرف وہ فیکٹریاں ہیں جن کے برآمدی آرڈر باقی تھے یا پھر انکی رہائشی کالونیاں ان کے احاطے کے اندر ہیں۔

 انکا کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات کا تب تک فائدہ نہیں ہوگا جب تک تمام متعلقہ شعبوں جیسا کہ سٹیچنگ، گارمنٹنگ، کنٹنگ وغیرہ کو بھی کام کی اجازت نہیں دی جاتی۔

انکا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ٹیکسٹائل انڈسٹری اپنی آدھی صلاحیت کے مطابق بھی کام نہیں کر رہی۔

انہوں نے کہا کہ انڈسٹری کو مالی بحران کا سامنا ہے اور اسی سبب یہ یوٹیلٹی بلوں اور ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کرنے کے بھی قابل نہیں رہی۔

انکا کہنا تھا کہ موجودہ تباہ کن صورتحال سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ انڈسٹری کی پوری ویلیو چین کو کام کرنے دیا جائے وگرنہ ملک کو زرمبادلہ اور روزگار فراہم کرنے والی برآمدات کو پرانی سطح پر لے جانا بہت مشکل ہوجائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here