اسلام آباد ہائیکورٹ کی مائیکرو فنانس اداروں سے متعلق کیس میں درخواست گزار کو وفاق اور متعلقہ حکام سے رجوع کرنے کی ہدایت

مائیکرو فنانس ادارے خود مالی بحران کا شکار, کمرشل بینکوں نے قرض فراہمی روک دی، سٹیٹ بینک کے پاس مدد کے اختیارات ہیں: ترجمان این آر ایس پی

228

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت نے مائیکرو فنانس اداروں سے متعلق کیس میں درخواست گزار کو وفاق اور متعلقہ حکام سے رجوع کرنے جبکہ رجوع کرنے پر وفاق کو قواعد و ضوابط کے مطابق اقدامات کی ہدایت کر دی۔

جمعہ کو سماعت کے دوران کورونا بچاؤ اقدامات کے تحت چیف جسٹس نے ماسک پہن کر کیس سنا۔

اس موقع پر سٹیٹ بینک کے وکیل نے بتایا کہ کورونا وبا کے دوران 80,000 مقروض افراد نے رعایت مانگی جس کے نتیجہ میں تقریباً چار ارب روپے مالیت کے قرضوں کی ادائیگی مؤخر کر دی گئی ہے۔

این آر ایس پی کے ترجمان افتخار باجوہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مائیکرو فنانس ادارے خود بھی مالی بحران کا شکار ہو گئے ہیں کیونکہ کمرشل بینکوں نے انہیں قرض کی فراہمی روک دی ہے۔ سٹیٹ بینک کے پاس اختیارات ہیں وہ مائیکرو فنانس بینکوں کی کچھ مدد کرے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے عدالتی معاون وکیل عمر گیلانی سے رائے طلب کی جس پر عدالتی معاون نے کہا کہ موجودہ حالات میں مائیکرو فنانس ادارے واقعتاً مالی بحران کا شکار ہو گئے ہیں، اگر یہ معاملہ ایسے ہی رہا تو ملک کے طول و عرض میں بچھا یہ نظام تباہ ہو سکتا ہے، زیادہ نقصان ان غریب لوگوں کا ہو گا جو مائیکرو فنانس اداروں کی خدمات سے استفادہ کرتے ہیں۔

عدالتی معاون عمر گیلانی نے کہا کہ وفاقی حکومت، سٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی تینوں کو جامع حکمت عملی بنانی چاہئے تاکہ چھوٹے قرضوں کا سلسلہ جاری رہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ زیادہ مناسب ہو گا کہ مائیکرو فنانس ادارے اپنے مسائل اور اپنی ڈیمانڈز وفاقی حکومت، سٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کو مراسلے کی شکل میں لکھ دیں۔

عدالت حکام کو پابند کرتی ہے کہ وہ تمام فریقین کو سن کر قانون کے مطابق اور مفاد عامہ کو سامنے رکھتے ہوئے مراسلے کا فیصلہ کرے، اگر پھر بھی بحران حل نہیں ہوتا تو فریقین دوبارہ عدالت سے رجوع کے مجاز ہوں گے۔ مذکورہ ہدایات کے ساتھ عدالت نے آئینی درخواست نمٹا دی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here