کورونا مزید 38 جانیں لے گیا، ہلاکتیں 564، کیسز کی تعداد 24 ہزار سے زائد

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 38 لاکھ 22 ہزار ہو گئی، 2 لاکھ 65 ہزار افراد ہلاک، اب تک 13 لاکھ 29 ہزار 95 افراد صحت یاب

431

لاہور: پاکستان میں کورونا وائرس سے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 38 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 564 ہو گئی ہے جبکہ مزید کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 24073 ہو گئی، وائرس کا شکار ہونے والے 6464 افراد صحت یاب ہو کر گھروں کو لوٹ چکے ہیں جبکہ 17045 افراد مختلف ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

کورونا وائرس کے اعدادوشمار کیلئے بنائے گئے سرکاری پورٹل کے مطابق ملک بھر میں 564 اموات میں سے خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ 203 ، سندھ میں 157، پنجاب میں 175، بلوچستان میں 22، گلگت بلتستان میں تین اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد چار ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

تعلیمی ادارے، ٹرینیں، فضائی سروس بند رکھنے کا فیصلہ 

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے قومی رابطہ کمیٹی کے  اجلاس میں کورونا وائرس کے باعث تعلیمی اداروں، ٹرین سروس، بس سروس اور فضائی آپریشن کو مزید بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزرائے اعلیٰ وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں سکولوں کو 15 جولائی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم اسکولوں کوکھولنے یا نہ کھولنے سے متعلق مزید غور یکم جون کو کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس چھوٹی دکانیں کھولنے کی اجازت دینے کا فیصلہ جب کہ بس سروس ، ٹرین سروس اور مقامی فلائٹ آپریشن کی بندش میں مزید توسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ مرحلہ وار لاک ڈاؤن میں خاتمے کے لیے عوام کو ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ اگر ہم ایس او پیز پر عمل نہیں کریں گے تو مشکل میں پھنس جائیں گے۔ ہماری پولیس ہر شہری کو زبردستی بند نہیں کر سکتی اور جگہ جگہ چھاپے نہیں مار سکتی۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں پبلک ٹرنسپورٹ کھولنا چاہتا تھا اور سمجھتا ہوں کہ ٹرین اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کی ذرائع کو کھولا جائے لیکن صوبوں کو اس پر خدشات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کے لیے ٹرانسپورٹ کھولنے کی حمایت میں تھا لیکن موجودہ صورتحال کے باعث صوبوں اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

تمام بورڈز کے امتحانات منسوخ، تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند 

وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا کہ نیشنل سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں ملک کے تمام تعلیمی بورڈز کے امتحانات کو منسوخ کرنے اور تعلیمی اداروں کو 15 جولائی تک بند رکھنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان نے منظور دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ طلباء کی صحت اور والدین کی تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ پاکستان کے تعلیمی بورڈز نویں، دسویں، گیارویں اور بارویں جماعت کے امتحانات لیتے ہیں۔ طلباء کو گذشتہ جماعت کے نتائج کے مطابق اگلی جماعت میں پرموٹ کر دیا جائے گا۔

وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ بارویں جماعت میں زیرتعلیم طلباء کو گیارویں جماعت کے نتائج کی روشنی میں یونیورسٹیاں داخلہ دیں گی۔ پہلے تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اب تعلیمی ادارے مزید 15 جولائی تک بند رہیں گے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس 11 مئی کو طلب

کورونا وائرس کی وبا کے دوران قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے حوالے سے پارلیمانی رہنماؤں کی ملاقات ہوئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 11 مئی کو سہ پہر تین بجے ہوگا۔ اس اجلاس میں شرکت کرنے کی غرض سے ارکان کے لیے کراچی اور کوئٹہ سے خصوصی پروازیں چلیں گی۔

یہ بھی پڑھیے: 

گرمی سے کورونا وائرس کے ختم ہونے کی بات میں کتنی سچائی ہے؟

موڈیز نے معیشت سکڑنے سے پاکستان میں کساد بازاری کا خدشہ ظاہر کردیا

کورونا وائرس، لاک ڈائون سے پاکستان میں کساد بازاری کا خدشہ

کورونا کے باعث بقا کی جنگ لڑتی کاٹن جننگ انڈسٹری نے حکومت سے مدد مانگ لی

ایشیائی ترقیاتی بینک کورونا سے ہونے والے معاشی نقصانات سے نمٹنے کیلئے پاکستان کو ایک ارب 70 کروڑ ڈالر دے گا

اعلامیے کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس ایک دن کے وقفے سے ہوا کرے گا جس میں کورم کی نشاندہی نہیں کی جائے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اجلاس میں کورونا وائرس سے پیدا صورتحال، معیشت پر اثرات اور حکومتی اقدامات کے بارے میں تین گھنٹے بحث ہوا کرے گی۔ اجلاس میں وقفہ سوالات، توجہ دلاؤ نوٹس، تحاریک استحقاق نہیں لی جائے گی جبکہ ملاقاتیوں کا پارلیمنٹ ہاؤساور لاجز میں داخلہ نہیں ہوگا۔

اس کے علاوہ فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی وزرا اپنے عملے کا ایک رکن ساتھ لاسکیں گے جبکہ اجلاس کی کارروائی کی کوریج کے لیے صحافیوں کی تعداد کافیصلہ پی آر اے کرے گی۔ سفارش کی گئی کہ اجلاس سے قبل ارکان پارلیمنٹ اور سیکریٹریٹ کے عملے کے کورونا وائرس ٹیسٹ کرائے جائیں۔

پنجاب حکومت کے مطابق وفاق کی اجازت کے بعد ہوم قرنطینہ کا نفاذ پنجاب میں کیا جائے گا اور ہوم قرنطینہ سے متعلق عالمی معیار کے مطابق گائیڈ لائنز فراہم کی جائیں گی۔ قرنطینہ کے معیار سے متعلق ضروری نکات سے تحریری طورپر آگاہ کیا جائے گا اور ہوم قرنطینہ اپنانے پر شہری کو بیان حلفی دینا ہوگا جبکہ حکومت کی مقرر کردہ ٹیمیں گھروں میں جا کر قرنطینہ کے معیار کو چیک کرسکیں گی۔

متاثرہ شخص کو حکومت کے قائم کردہ قرنطینہ مراکز اور ہوٹل میں جانے کا بھی آپشن دیا جائے گا، 24 گھنٹے میں سیمپل کی رپورٹ آجائے گی اور مثبت ہونے کی صورت میں قرنطینہ میں جانا ہوگا۔ متعلقہ اضلاع میں بھیجے جانے والے کورونا مریضوں کی آمدورفت کے لیے فول پروف طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر ہاؤسنگ بھی کورونا کا شکار

خیبر پختونخوا کے وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہو گئے۔ اپنے ایک بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ لاک ڈاون کے دوران قرنطینہ مراکز اور اسپتالوں کے دورے کرتا رہا، کھانسی اور بخار کی علامات کے باعث کورونا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آیا۔

صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ انھوں نے چار روز سے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے، عوام سے اپیل ہے کہ وہ ان کے اور کورونا میں مبتلا دیگر افراد کے لیے دعا کریں۔

برطانیہ میں پاکستانی سب سے زیادہ متاثر

برطانیہ کی سیاہ فام اور نسلی اقلیتوں کے کورونا وائرس سے مرنے کا خطرہ مقامی آبادی کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے محققین نے یکم مارچ سے 21 اپریل تک انگلینڈ کے ہسپتالوں میں فوت ہونے والے مریضوں کےاعداد و شمار نیشنل ہیلتھ سروس سے حاصل کرکے ان کاجائزہ لیا جس سے معلوم ہوکہ عام آبادی کے مقابلے میں سیاہ فام، ایشیائی اور دیگر نسلی اقلیتوں کی اموات اوسطاً دو سے تین گنا زیادہ ہیں۔

تحقیق کے مطابق پاکستانیوں کے لیے کورونا سے موت کا خطرہ 3 اعشاریہ 29 گنا، سیاہ افریقیوں کےلیے 3 اعشاریہ 24 گنا، بنگلہ دیشی ششہریوں کےلیے 2 اعشاریہ 41 گنا اور بھارتیوں کےلیے یہ خطرہ 1 اعشاریہ 7 گنا زیادہ ہے۔

دفتر برائے قومی شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ کے انتہائی پسماندہ علاقوں میں کورونا سے اموات کی شرح زیادہ اچھی جگہوں کی نسبت 118 فیصد زیادہ ہے۔

عالمی صورت حال

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 38 لاکھ 22 ہزار ہوچکی ہے جبکہ اموات کی تعداد 2 لاکھ 65 ہزار ہو گئی۔ کورونا وائرس سے اب تک 13 لاکھ 29 ہزار 95 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

امریکا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 12 لاکھ 63 ہزار 224 ہو چکی ہے جن میں سے 15 ہزار سے زائد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، 74 ہزار 804 امریکی شہری زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

کورونا کا معاشی قہر، عالمی کاروباری برادری نے طویل کساد بازاری کی پیشگوئی کردی

عالمی تجارت میں 32 فیصد کمی متوقع، ترقی پذیر معیشتوں سے 100 ارب ڈالر کا انخلاء

عالمی معیشت کو چار کھرب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو سکتا ہے: اے ڈی بی

کورونا وائرس ، کساد بازاری سے ایشیاء میں ایک کروڑسے زائد لوگ خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے: رپورٹ

برطانیہ میں اب تک کورونا وائرس سے 30 ہزار 76 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ملک بھر میں 2 لاکھ 11 ہزار افراد وائرس سے متاثر ہیں۔ اٹلی میں متاثرین کی تعداد 2 لاکھ 14 ہزار 457 اور ہلاکتیں 29 ہزار 684 جبکہ اسپین میں متاثرین کی تعداد ڈھائی لاکھ اور ہلاکتیں 25 ہزار 857 ہوچکی ہیں۔

جرمنی میں 7 ہزار 275، ترکی میں 3 ہزار 584، بیلجیئم میں 8 ہزار 339 اور برازیل میں 8 ہزار 588 اموات ہوچکی ہیں۔ ایران میں بھی متاثرین کی تعداد 1 لاکھ سے تجاوز کر گئی جبکہ اب تک 6 ہزار 418 اموات ہوچکی ہیں، سعودی عرب میں 31 ہزار 938 افراد متاثر اور 209 اموات ہوچکی ہیں۔ بھارت میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 52 ہزار 987 اور ہلاکتیں 17 سو 85 ہوچکی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here