تاجروں کا حکومت سے ذخیرہ اندوزی کے خلاف آرڈی نینس کی مزید وضاحت کا مطالبہ

آرڈیننس میں سٹاک اور ذخیرہ اندوزی کی وضاحت نہ ہونے سے تاجروں کو کاروبار چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے : صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری

63

لاہور: تاجر برداری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ذخیرہ اندوزی کے خلاف حال ہی میں جاری کردہ آرڈی نینس کی وضاحت کرے، لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عرفان اقبال شیخ نے حکومت سے ذخیر اندوزی ( ہارڈنگ) اور اسٹاک میں فرق واضح کرنے کا مطالبہ کردیا۔

اس بات کا مطالبہ تاجر رہنمائوں کی جانب سے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا جس میں لاہور چیمبر آف کامرس  اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر علی حسام اصغر،  نائب صدر میاں زاہد جاوید، پولٹری ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چئیرمین چودھری محمد فرقان، سیڈ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چئیرمین چودھری بلال احمد اور ایشیا پیسیفک سیڈ ایسوسی ایشن کے صدر طاہر سلیم بھی موجود تھے۔

تاجروں کا اس پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے حال ہی میں جاری کیے جانے والے آرڈیننس سے تاجر برادرری میں بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ اس میں مصنوعات کے سٹاک اور ذخیرہ اندوزی کی واضح تعریف موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

رواں برس گندم خریداری کا ہدف پورا نہ ہوپانے کا امکان

عیدالفطر، وفاقی حکومت کا تنخواہیں، پینشن 21 مئی تک دینے کا اعلان

کورونا کی ویکسین بنانے کے لیے عالمی رہنماؤں کا 7.4 ملین یورو دینے کا اعلان

انکا کہنا تھا کہ سیڈ کمپنیوں کو گندم کے بیج کی خریداری کی اجازت نہیں دی جارہی مگر محکمہ خوراک سندھ اور پنجاب کے کاشتکاروں سے زبردستی بیج خرید رہا ہے۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو بیج کی عدم دستیابی کی صورت میں اگلے سیزن کے لیے گندم کی فصل کیسے کاشت کی جائے گی؟

ان کا کہنا تھا کہ آرڈیننس میں بیج کی خریداری کی ممانعت نہیں ہے مگر محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ نجی کمپنیوں کو بیج اُٹھانے کی اجازت نہیں دے رہیں اور یہ چیز بحران کا باعث بن سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تاجر برادری نے ہمیشہ ذخیرہ اندوزی کی مخالفت کی ہے کیونکہ اس سے اشیاء کی غیر ضروری قلت سمیت قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوجاتا ہے۔ مذکورہ آرڈیننس کو جائز کاروبار کرنے والوں کو تنگ کرنے یا ان کے کاروبار میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

پریس کانفرنس کے شرکاء نے حکومت کو یقین دہانی کروائی کہ تاجر برادری چاولوں اور دوسری اشیاء کی مصنوعی قلت نہیں ہونے دے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چاولوں اور دوسری اشیاء کے ڈیلرز کو کاروبار چلانے کے لیے سٹاک کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا اس آرڈیننس کی آڑ میں انھیں تنگ نہیں کیا جانا چاہیے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here