‘اپٹما کی بجٹ تجاویز پہلے سے امیر مل مالکان کو نوازنے کیلئے ہیں’

'ٹیکس ریٹس اور اعدادو شمار کو اوپر نیچے کرنے سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس کیلئے تفصیلی فرانزک سٹڈی کی ضرورت ہے'

119

لاہور: ٹیکسٹائل انڈسٹری اور حکومتی حلقوں میں ماہرین نے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کی بجٹ تجاویز پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے غیر موثر قرار دے دیا ہے اور سیکٹر کو درپیش مسائل کا جائزہ لینے کیلئے جامع تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ 

ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق ٹیکس ریلیف اور دیگر مراعات کے حصول کے لیے اپٹما کا نقطہ نظر خلافِ منشا ثابت ہو گا کیونکہ حکومت ارب پتی ملرز کو مزید کوئی ریلیف نہیں دے سکتی۔

ایسوسی ایشن نے حال ہی میں وفاقی حکومت کو کچھ بجٹ تجاویز بھیجی تھیں جن کا مقصد ایسوسی کے مطابق ٹیکسٹائل انڈسٹری کی طویل المدتی ترقی کے لیے اقدامات کرنا تھا۔

وزیراعظم کے مشیر تجارت کو بھیجی گئی ان بجٹ تجاویز اپٹما نے موجودہ حالات کے تحت زیرو ریٹنگ پالیسی پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

ایسوسی ایشن نے تجویز دی ہے کہ اگر اب بھی حکومت کسی ایسی مارکیٹ سے سیلز ٹیکس جمع کرنا چاہتی ہے جو پہلے سے مشکلات سے دوچار ہے تو حکومت کو چاہیے کہ مذکورہ ٹیکس ‘پوائنٹ آف سیل’ پر وصول کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے:

ملازمین کو تنخواہیں ادا نہیں کر سکتے، ٹیکسٹائل انڈسٹری کی سندھ ہائی کورٹ میں درخواست

کورونا کے اثرات برداشت نہ کرپانے کا خدشہ، ٹیکسٹائل انڈسٹری نے حکومت سے مدد مانگ لی

ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سید محمد اعجاز کے مطابق ٹیکس ریٹس اور اعدادو شمار کو اوپر نیچے کرنے سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس کیلئے ایک تفصیلی تکنیکی اور فرانزک سٹڈی کی ضرورت ہے جس کے ذریعے پتا چلے کہ مذکورہ انڈسٹری کیوں زوال پذیر ہو رہی ہے۔

سید محمد اعجاز نے کہا کہ ٹیکسٹال انڈسٹری کیلئے ٹیکس شاید ایک مسئلہ ہو لیکن یہ مکمل تصویر نہیں ہے لہٰذا اصل مسئلہ کی جامع تشخیص کی ضرورت ہے تاکہ اس سیکٹر کو ترقی کی طرف لے جایا جائے۔

“ایک طرف حکومت انڈسٹری کی ترقی کے لیے سازگار ماحول یا مناسب اقدامات کرنے میں ناکام ہے جبکہ دوسری طرف اپٹما سبسڈیز اور ٹیکس ریلیف پر انحصار کے کلچر کو پروان چڑھا رہی ہے اور اسی وجہ سے مل مالکان عالمی سطح کے معیار کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

اپٹما نے مالی سال 2025ء تک ملکی برآمدات 28 ارب ڈالر تک لے جانے کے حوالے سے ایک دوسری تجویز میں کہا کہ کپاس کی پیداوار کو بڑھانا ہو گا اور آئندہ پانچ سالوں کے لیے 9 ملین گانٹھوں سے 20 ملین گانٹھوں تک لے جانا ہو گا۔

ٹیکسٹائل ملرز نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ پورا سال ڈیوٹی فری درآمدات کی اجازت ہونی چاہیے اور جنڈ کاٹن پر 10 فیصد سیلز ٹیکس واپس لینا چاہیے۔

لیکن اس حوالے سے زرعی ماہر آصف شریف کہتے ہیں ڈیوٹی فری کپاس درآمد کرنے کی اجازت سے پہلے سے امیر ٹیکسٹائل ملز مالکان کو ہی فائدہ ہوگا اور امیر سے امیر تر ہوتے جائیں گے لیکن اس طرح زرعی شعبہ تباہ ہو جائے گا۔

پاکستان ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے آصف شریف نے کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ڈیوٹی فری کپاس درآمد کرنے کی اجازت دینے کی بجائے اس کا ایک ہی حل تھا کہ درآمدات پر ٹیکس لاگو ہوں اور صنعتوں کو مقامی پیداوار پر ٹیکس چھوٹ دی جائے۔

انہوں نے سوال کیا کہ “اگر پیداوار ہی ٹھیک نہیں ہوگی تو مصنوعات کا میعار بہتر کیسے ہوگا؟ اپٹما کو چاہیے کہ پیداواری عمل کو بہتر کرے، کپاس کے کاشتکاروں کو اچھی قیمت دے تاکہ وہ ناصرف معیاری کپاس پیدا کریں بلکہ اتنی مقدار میں پیدا کریں جو ملکی ضروریات کیلئے کافی ہو۔

آصف شریف نے کہا کہ اگر دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو معیاری آرگینک کاٹن کی پیداوار پر توجہ دینا ہوگی اس سلسلے میں انڈسٹری اور حکومت کی مدد ہم کر سکتے ہیں۔

ایک سینئر حکومتی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امیر ترین ٹیکسٹائل ملز مالکان کو ٹیکس مراعات دینا درست پالیسی نہیں ہے بلکہ پہلے ہمیں کپاس کی پیداوار سے متعلق درست پالیسی اپنانا ہو گی۔

اس حوالے سے جب ایک ٹیکسٹائل مل کے مالک سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اپٹما نے کافی غوروخوض کے بعد اپنی تجاویز اور مطالبات حکومت کے سامنے رکھے ہیں اور اب یہ حکومت پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here