مسافروں کی تعداد کورونا سے پہلے کی سطح پر آنے کے لیے 3 سال کا عرصہ درکار ہوگا،امارات،اتحاد ایئر

لاک ڈاؤن سے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقی ایئرلائنز  کی آمدنی میں رواں سال 24.5  ارب ڈالر کمی آسکتی ہے،آئی اے ٹی اے

212

دبئی: متحدہ عرب امارات کی دوبڑی فضائی کمپنیوں امارات اور اتحاد ایئر  نے کہا ہے کہ مسافروں کی تعداد کورونا وائرس سے پہلے کی سطح پر آنے کے لیے 3 سال کا عرصہ درکار ہوگا۔

ہوابازی کی بین الاقوامی تنظیم (آئی اے ٹی اے) کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن سے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی ملکوں کی ایئرلائنز  کی رواں سال آمدنی میں 24.5  ارب ڈالر کمی آسکتی ہے۔

امارات ایئر کے صدر ٹم کلارک اور اتحاد  ایئر کے سی ای او  ٹونی ڈگلس نے گزشتہ روز  وڈیو کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ کورونا لاک ڈاؤن سے دنیا کی 85  فیصد ایئرلائن متاثر متاثر ہوں گی جن کا حکومتی امداد کی بحالی کے بغیر گزارہ مشکل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا بحران، آئرش ائیرلائن کا تین ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ

عالمی ائیرٹریفک سے 1.2 ارب تک مسافر کم ہو سکتے ہیں،انٹرنیشنل سول ایشن آرگنائزیشن

عالمی ائیرلائنز کو کورونا بحران سے 314 ارب ڈالر نقصان

کورونابحران: برٹش ائیرویز کا 12 ہزار، سکینڈے نیوین ائیرلائن کا 5 ہزار ملازمین برطرف کرنے کا فیصلہ، ائیربس کو اربوں کا خسارہ

مسافروں کی تعداد بارے ان کا کہنا تھا کہ اس کی پرانی حالت میں بحالی  2023ء تک ہی ممکن ہوسکے گی۔ کورونا وائرس کے باعث 14 روزہ قرنطینہ، ٹیسٹنگ اور سماجی فاصلے جیسے اقدامات سے ایئرلائنز کا کاروبار شدید متاثر ہوا ہے۔

یاد رہے کہ امارات اور اتحاد ایئر کے 370  سے زیادہ مسافر طیارے ہیں جن میں اکثریت بڑے طیاروں کی ہے جنھیں کورونا لاک ڈاؤن کے باعث گراؤنڈ کردیا گیا ہے۔

ادھر انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشین  نے حکومتوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کورونا لاک ڈاؤن سے متاثرہ فضائی کمپنیوں کی معاونت کریں۔

ایاٹا کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی ملکوں کی ایئرلائنز کی آمدنی میں رواں سال 24.5  ارب ڈالر کی کمی ہوسکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here