حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس، لیوی میں زبردست اضافہ کردیا

فی لٹر پٹرول کی قیمت خرید 35.73 روپے جبکہ ڈیزل کی 30.99 روپے ہے مگر بھاری ٹیکسوں و دیگر چارجز کےباعث عوام بلترتیب 81.58 اور 80.10 میں خریدنے پر مجبور

318

اسلام آباد: حکومت نے مئی کے مہینے میں پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں اور لیوی میں غیر معمولی اضافہ کردیا جس کے بعد ایک لٹر پٹرول کی قیمت میں لیوی 17.16 روپے سے بڑھا کر 23.76 روپے جبکہ ایک لٹر ڈیزل کی قیمت پر 14.51 روپے اضافے کیساتھ 30 روپے کردی گئی ہے۔

اس وقت ایک لٹر ڈیزل کی قیمت میں 11.64 روپے سیلز ٹیکس،  2.81 روپے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن، 3.12 روپے ڈیلرز کا مارجن اور 1.54 روپے اِن لینڈ فرائٹ ایکولائزیشن کا مارجن شامل ہے۔

اس طرح پٹرول کی فی لٹر قیمت میں 11.85 روپے سیلز ٹیکس، 2.81 روپے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن،  3.70 روپے ڈیلروں کا مارجن اور 3.73 روپے ان لینڈ فرائٹ ایکولائزیشن کا مارجن شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

حکومت کا خام تیل کی درآمد سے پابندی اُٹھانے کا فیصلہ

برطانیہ کا 2035 کے بعد پٹرول، ڈیزل اور ہائبرڈ گاڑیوں پر پابندی لگانے کا اعلان

موڈیز نے معیشت سکڑنے سے پاکستان میں کساد بازاری کا خدشہ ظاہر کردیا

مزید برآں مٹی کے فی لٹر تیل پر لیوی 2.81 روپے بڑھا دی گئی ہے جبکہ فی لٹر لائٹ ڈیزل پر بھی پٹرولیم لیوی میں 11.18 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔

پٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق ریٹیل آؤٹ لیٹ پر فروخت ہونے والے فی لٹرموٹر گیسولین پر لیوی 23.76 روپے جبکہ اس کی براہ راست فروخت پر 27.46 روپے کردی گئی ہے۔

اسی طرح ریٹیل آؤٹ لیٹ پر فروخت ہونے والے ہائی اوکٹین بلینڈڈ کمپونینٹ ( ایچ او بی سی ) پر لیوی 14 روپے فی لٹر جبکہ براہ راست فروخت پر 16.15 روپے فی لٹر ہے۔

مٹی کے تیل کی ریٹیل فروخت پر لیوی  18.02 روپے فی لٹر جبکہ اس کی براہ راست فروخت پر بھی اتنی ہی لیوی عائد ہے۔

مزید برآں ہائی سپیڈ ڈیزل کی ریٹیل فروخت پر لیوی 30 روپے فی لٹر اور براہ راست فروخت پر 33.12 روپے ہے۔

لائٹ ڈیزل کی ریٹیل فروخت پر فی لٹر لیوی 11.18 روپے اور براہ راست فروخت پر بھی لیوی کا تناسب یہی ہے۔

ای 10 گیسولین کی ریٹیل فروخت پر پٹرولیم لیوی 21.18 روپے فی لٹر جبکہ براہ راست فروخت پر 24.18 روپے فی لٹر ہے۔

ذرائع کے مطابق پٹرول کی قیمت خرید 35.73 روپے فی لٹر ہے مگر اسکی نئی قیمت فروخت 81.58 روپے ہے ۔ اسی طرح ہائی سپیڈ ڈیزل 30.99 روپے فی لٹر میں خریدا جاتا ہے مگر اسکی نئی قیمت فروخت 80.10 روپے مقرر ہے ۔

یوں حکومت  نے ٹیکس، ڈیوٹی اور لیوی کی شرح میں اضافہ کرکے عوام کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کے فوائد سے محروم کرکے اربوں روپے ریونیو کمانے کا بندوبست کرلیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here