کورونا، ٹرمپ کی چین پر چڑھائی عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو لے ڈوبی

امریکی صدر کی چین پر الزام تراشی اور پابندیوں کی دھمکی سے سرمایہ کار خوف اور گبھراہٹ کا شکار، نیو یارک، لندن، ٹوکیو اور سڈنی سمیت متعدد حصص بازاروں میں مندہ، صورتحال سے دونوں ممالک میں تجارتی تنازعے کی یاد تازہ ہوگئی

338

واشنگٹن: کورونا وائرس کے حوالے سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی چین پر الزام تراشی اور دھمکیوں نے دنیا کی اسٹاک مارکیٹوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

یہ بیان بازی اس قدر خطرناک ثابت ہوئی کہ یکم مئی 2020ء  کو لندن اور نیو یارک کی اسٹاک مارکیٹس شدید مندی کا شکار ہوگئیں جس سےدونوں ملکوں ( چین اور امریکا ) میں تجارتی تنازع کی یاد تازہ ہوگئی۔

یورپ اور ایشیا کی کچھ مارکیٹیں یوم مزدور کی سرکاری چھٹی کی وجہ سے بند رہیں۔

ایمازون کی مشکلات کی وجہ سے بھی سرمایہ کاروں کے اعصاب تنے رہے۔ کمپنی کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق اقدامات کے باعث اسکے پاس سال کی دوسری سہ ماہی میں ہونے والی کمائی میں کچھ نہیں بچے گا۔

 کورونا وائرس کے باعث مارکیٹوں میں مشکل صورتحال ہے کیونکہ کمائی میں اضافہ، منافع میں اضافے میں تبدیل نہیں ہورہا۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس بحران، آئرش ائیرلائن ریانئیر کا تین ہزار ملازمین برطرف کرنے کا فیصلہ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج: 17 اپریل کو طے شدہ وقت کے بعد ہونے والا کاروبار جائز قرار

سندھ کے تاجروں نے حکومت کی ‘آن لائن کاروبار فارمولا’ کی پیشکش مسترد کر دی

امریکی سٹاک مارکیٹ کا اختتام 2.6 فیصد کمی کے ساتھ ہوا۔ ایمازون کی آمدن میں 7.6 فیصد کمی کے ساتھ ایگزون موبل، ہوائی کمپنیوں اور ہوٹلوں کو زبردست نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

صدر ٹرمپ کے اس الزام کہ کورونا وائرس ووہان کی لیبارٹری سے پھیلا اور چین پر نئی پابندیاں لگانے کی ان کی دھمکیوں سے سرمایہ کاروں میں ڈر اور خوف پایا جاتا ہے۔

برطانوی سرمایہ کاروں نے سڈنی، ٹوکیو اور ایشیا میں ہونے والے نقصانات سے صورتحال کا اندازہ لگا لیا تھا۔

مزید برآں مارکیٹوں کی خراب کارکردگی کی ایک وجہ سرمایہ کاروں کے جذبات کو سپین کے اس بیان سے ٹھیس پہنچنا بھی تھی کہ کورونا وائرس کے باعث رواں برس اسکا جی ڈی پی 9.2 فیصد کم ہوجائے گا اور بیروزگاری کی شرح 19 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here