ملک میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی، اپریل میں 9.5 فیصد ریکارڈ

249

اسلام آباد: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات پاکستان میں بھی دکھائی دینے لگے ہیں، ملک میں 10 ماہ بعد مارچ کے مقابلے میں اپریل میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 9.5 فیصد پر آگئی۔ 

ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی اے) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مارچ کے مقابلے میں اپریل میں مہنگائی کی شرح میں 0.8 فیصد کمی آئی، مارچ میں مہنگائی کی شرح 10.24 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی سے تازہ سبزیوں، دودھ اور گندم کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، مذکورہ اشیائے ضروریہ مہنگائی کی شرح میں اضافے کی اصل محرک تھیں۔

پی بی اے کے مطابق پاکستانیوں کو2008ء کے بعد جنوری 2020ء میں سب سے زیادہ مہنگائی کا سامنا  کرنا پڑا جس سے شہریوں کے گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ پڑا اور مہنگائی نے نیا ریکارڈ قائم کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران مہنگائی کی شرح میں مسلسل کمی دکھائی دے رہی ہے جس کی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تاریخی گراوٹ اور سٹیٹ بینک کی جانب سے معاشی بحران کے باعث شرح سود میں واضح کمی کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

سٹیٹ بینک نے شرح سود میں 2 فیصد کمی کردی

کیا مہنگائی کرنا کمپنیوں کی جانب سے اپنا منافع بڑھانے کا حربہ ہے؟

سٹیٹ بینک نے مارچ سے اپریل تک تین بار شرح سود میں کمی کی جو 13.25 فیصد سے کم ہو کراب 9 فیصد تک آگئی ہے جس کے واضح اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی نظر آ رہے ہیں۔

پی بی اے کے اعدادوشمار کے مطابق 2008ء اور 2020ء کے زیر جائزہ عرصے کے دوران صارفین کی اشیائے ضروریہ میں سالانہ 11.4 فیصد تبدیلی دکھائی دیتی ہے، 2008ء میں مٹن 251.80 روپے فی کلو سے بڑھ کر 2020ء میں 919 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔

بیف کی قیمت 2008ء میں 136 روپے فی کلو تھی جو 2020ء میں 445 روپے تک پہنچ چکی ہے، چائے کی قیمت 2008ء میں 324 روپے فی کلو تھی جو 2020ء میں 1206 روپے فی کلو ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2008ء سے 2020ء کے دوران چینی کی فی کلو قیمت 26.5 روپے سے بڑھ کر 69 روپے فی کلو تک آئی ہے، دال ماش اور گندم باالترتیب 74 روپے سے 251 روپے اور 23.90 روپے فی کلو سے 43.86 روپے فی کلو ہوئی۔

اسی زیر جائزہ عرصے کے دوران چاول 51 روپے سے 82 روپے فی کلو، پیاز، چکن اور کھاد کی قیمت باالترتیب 28 روپے سے 50 روپے فی کلو، 105 روپے سے 138 روپے فی کلو اور 15 روپے سے 32 روپے فی کلو تک جا پہنچی۔

اعدادوشمار کے مطابق بیف، چائے، چینی، دال ماش، چاول، پیاز، ککنگ آئل، چکن اور کھاد کی فی کلو قیمتوں میں باالترتیب 10.3 فیصد، 11.6 فیصد، 8.4 فیصد، 10.7 فیصد، 5.2 فیصد، 4 فیصد، 4.9 فیصد، 5.4 فیصد، 2.3 فیصد اور 6.4 فیصد تک سالانہ اعتبار سے تبدیلی آئی ہے۔

یاد رہے کہ کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکمران جماعت کے عہدیداران نے مہنگائی کی شرح میں کئی بار کمی کا عندیہ دیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here