کورونا بحران کے باعث دنیا بھر میں 1.6 ارب افراد کا روزگار ختم ہونے کا امکان

مہلک وائرس دنیا کی نصف افرادی قوت کو بے روزگار کرنے کے درپے، 436 ملین انٹرپرائزز کا کاروبار تعطل کا شکار، صورتحال سے نکلنے کے لیے عالمی تعاون سے فوری اقدامات درکار : انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن

403

نیویارک: عالمی ادارہ برائے محنت نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث دنیا کی نصف افرادی قوت  یعنی 1 ارب  ساٹھ کروڑ افراد روزگار ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

ایک رپورٹ میں ادارے کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کام کرنے والے 3.3 ارب افراد میں سے 2 ارب غیر رسمی معیشت میں کام کرتے ہیں۔

ان میں سے کچھ قلیل مدتی کنٹریکٹ پر کام کرتے ہیں یا  اپنا روزگار چلاتے ہیں مگر بحران کے پہلے ماہ میں ان کی آمدنی ساٹھ فیصد کم ہوگئی ہے۔ مزید برآں ان میں سے 1.6 ارب افراد کا روزگار مہلک وائرس کی وجہ سے داؤ پر لگا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس: خلیجی ریاستوں میں 21 ہزار پاکستانی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے

کورونا کے باعث 2020میں عالمی تجارت ایک تہائی رہ جائے گی: عالمی ادارہ برائے تجارت

کورونا کے باعث جی 20 ممالک کی معیشت 4 فیصد سکڑ جائے گی: موڈیز

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کی 430 ملین انٹر پرائزز کورونا سےبری طرح متاثر ہوئیں ہیں۔

انڑ نیشنل لیبر آرگنائزیشن کے ڈائریکٹرجنرل Guy Ryder کا صورتحال بارے کہنا تھا کہ ’’کروڑوں لوگوں کے لیے آمدنی کے ختم ہوجانے کا مطلب ہے، کوئی خوراک نہیں، کوئی تحفظ نہیں اور کوئی مستقبل نہیں‘‘۔

انکا کہنا تھا کہ ’’لاکھوں کاروبار مہلک وائرس کے اثرات کے باعث سسک رہے ہیں ۔ ان کے پاس کوئی بچت نہیں ہے، کوئی سرمایہ نہیں ہے۔ یہ کاروباری دنیا کے اصل حالات ہیں اور اگر ہم نے مدد نہ کی تو یہ کاروبار ختم ہوجائیں گے‘‘۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ اور افریقہ میں لوگوں کی آمدنی میں 80 فیصد، یورپ اور وسطی ایشیا میں 70 فیصد اور ایشیا اور پیسیفک کے باسیوں کی آمدنی میں 21.6 فیصد کمی ہوگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں برس کی دوسری سہ ماہی میں دنیا بھر میں کام کے اوقات میں 10.5 فیصد کمی واقع ہوگی جو کہ 305  ملین کل وقتی ملازمتوں کے برابر ہے۔

اس حوالے سے لگائے گئے اندازے کے مطابق امریکہ میں کام کے اوقات میں 12.4 فیصد ، یورپ اور وسطی ایشیا میں 11.8 فیصد اور دوسرے تمام خطوں میں 9.5 فیصد سے زائد کمی واقع ہوگی۔

مزید برآں رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ دنیا بھر میں ہول سیل، ریٹیل، پیداوار اور رہائش کے شعبوں میں کام کرنے والی 436 ملین کمپنیوں کو کاروبار میں بد ترین تعطل کا سامنا ہے ۔

عالمی ادارہ برائے محنت نے صورتحال پر تشویش ک اظہارکرتے ہوئے ملازمین اور کاروباروں کو بچانے اور سہولت دینے کے لیے فوری اقدامات کرنے پر زور دیا ہے ۔

کووڈ 19 کےروزگار پر اثرات کے حوالے سے رپورٹ کی سفارشات میں ادارے کا کہنا تھا کہ معاشی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے روزگار پیدا ہو اور جامع سماجی تحفظ حاصل ملے۔

مزید برآں ادارے کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پرامدادی پیکجز کے حوالے سے  تعاون اور قرضوں میں رعایت جیسے اقدامات وائرس سے متاثرہ معیشتوں کی پائیدار بحالی کے لیے کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here