لاک ڈاؤن میں نرمی کے باعث ایشائی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی کا رجحان

ہانگ کانگ اور شنگھائی کی مارکیٹوں میں 0.7 فیصد ، سڈنی، سیول اور تائیپی کی مارکیٹوں میں ایک فیصد جبکہ ویلنگٹن کی مارکیٹ میں 3 فیصد کا اضافہ ہوا۔ منیلا، جکارتہ اور سنگاپور کی مارکیٹوں میں بھی کاروبارکی صورتحال مثبت رہی۔

131

کورونا لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیوں میں نرمی کے بعد ایشیائی مارکیٹوں میں کچھ تیزی دیکھی گئی ہے تاہم سرمایہ کاروں میں وائرس کی دوسری لہر آنے کا خوف بھی موجود ہے۔

حکومتوں کی جانب سے امداد اور مرکزی بنکوں کی جانب سے مدد کی یقین دہانیوں کے بعد ان مارکیٹوں میں 20 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد فرانسیسی وزیر اعظم Edouard Philippe نے بھی 11 مئی سے دکانیں کھولنے کی اجازت کا اعلان کیا ہے۔

وائرس کے کیسز میں کمی کے بعد اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اٹلی، سپین، امریکا اور جرمنی میں پابندیوں میں نرمی کردی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

مندی کی صورت میں اسٹاک مارکیٹ بند کرنا فائدہ مند یا نقصان دہ؟

کورونا کے باعث 2020میں عالمی تجارت ایک تہائی رہ جائے گی: عالمی ادارہ برائے تجارت

سندھ کے تاجروں نے حکومت کی ‘آن لائن کاروبار فارمولا’ کی پیشکش مسترد کر دی

اگرچہ معیشتوں کو وائرس سے پہلی والی صورتحال پر واپس جانے میں ابھی کافی وقت لگے گا مگر کاروبار کے کھلنے سے سرمایہ کاروں کے لیے اُمید بنی ہے اور مارکیٹوں  کا آغاز مثبت سطور پر ہوا ہے۔

 تاہم ماہرین خبردار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پابندیوں میں نرمی کی بحث جاری رہنے کی وجہ سے مارکیٹوں کو اگلے چند ہفتے سمت کے تعین میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ حکومتوں کی طرح سرمایہ کار بھی وائرس کی دوسری لہر کے خوف میں مبتلا رہیں گے۔

ہانگ کانگ اور شنگھائی کی مارکیٹوں میں 0.7 فیصد ، سڈنی، سیول اور تائیپی کی مارکیٹوں میں ایک فیصد جبکہ ویلنگٹن کی مارکیٹ میں 3 فیصد کا اضافہ ہوا۔

منیلا، جکارتہ اور سنگاپور کی مارکیٹوں میں بھی کاروبارکی صورتحال مثبت رہی۔

امریکہ میں سرمایہ کاروں کی ںظریں گروتھ ڈیٹا پر لگی ہوئیں ہیں جو چند دنوں میں معیشت کی تصویر لیے جاری کردیا جائے گا۔ کاروباری طبقے کو فیڈرل ریزرو کی تاجروں سے ملاقات ختم ہونے کے بعد بھی اچھی خبر کی اُمید ہے۔

مزید برآں فیڈرل ریزرو بانڈ کی خریداری کی ایک بڑی سکیم بھی شروع کرنے والا ہے جس کے نتیجے میں حکومت نئے نوٹ چھاپ سکے گی۔

تاہم ماہرین کا اتفاق ہے کہ فیڈرل ریزرو کی تاجروں سے میٹنگ کے بعد کسی نئی پالیسی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

اُدھر امریکی خام تیل کی قیمت میں 15 فیصد کا اضافہ تو ہوا ہے مگر مانگ میں کمی اور ذخیرہ گاہوں کے مکمل بھر جانے کے باعث یہ اضافہ دیر تک نہیں رہے گا۔

ماہرین کے مطابق تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کی جانب سے پیداوار میں کمی کا آنے والے ہفتوں تک کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here