غلط بیانی سے انشورنس پالیسیوں کی فروخت روکنے کیلئے نئے ریگولیشنز جاری 

خریدار کو پالیسی خریدنے کے بعد تصدیق کیلئے کی جانے والی ٹیلی فون کال کا طریقہ کار، پوچھی جانے اور فراہم کی جانے والی معلومات کی تفصیل بھی ریگولیشنز میں شامل

342

اسلام آباد: سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے انشورنس سیکٹر میں ڈیجٹلائزیشن کے فروغ اور غلط بیانی سے انشورنس پالیسیوں کی فروخت کی روک تھام کیلئے کارپوریٹ انشورنس ایجنٹوں، بشمول بنک انشورنس کو ریگولیٹ کرنے کیلئے نئے ریگولیشنز عوامی رائے عامہ کیلئے جاری کر دیئے ہیں۔

مجوزہ ریگولیشنز میں انشورنس پالیسی کی فروخت کے طریقہ کار کو مزید مستحکم اور منظم بنایا گیا ہے اور صارف کو  پالیسی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ  معلومات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

انشورنس پالیسی کے خریدار کو پالیسی خریدنے کے بعد تصدیق کیلئے کی جانے والی ٹیلی فون کال کا طریقہ کار اور فون پر پوچھی جانے اور فراہم کی جانے والی معلومات کی تفصیل بھی ریگولیشنز میں شامل کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

دنیا بھر میں 160 ارب ڈالر بیمہ مالیت کے طیارے گرائونڈ، انشورنس کمپنیوں کو تحفظات

کورونا، ایس ای سی پی کی موٹر انشورنس کوریج ایک ماہ کے لیے بلا معاوضہ بڑھانے کی ہدایت

اس کے علاوہ پالیسی ہولڈر کو اس کی خواہش کے مطابق پالیسی کی دستاویزات اردو یا انگریزی زبان میں فراہم کئے جائیں گے۔ مجوزہ ریگولیشنز میں انشورنس ایجنٹوں کے کمیشن کا طریقہ کار بھی متعین کر دیا گیا ہے اور ریگولیشنز ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر فراہم کر دیئے گئے ہیں۔

عوام اور شراکت دار 30 دن کے اند ر کمیشن کو اپنی تجاویز و آراء سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ موصول ہونے والی آراء و تجاویز کے نتیجہ میں ان ریگولیشنز کو حتمی شکل دیدی جائے گی۔

دورسری جانب کورونا وائرس کے باعث سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے گاڑیوں کی انشورنس سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ پالیسی ہولڈرز کی انشورنس کوریج ایک ماہ کے لیے بلا معاوضہ بڑھائی جائے۔

یہ ہدایت کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے اندرون و بیرون شہرآمد و رفت کے لیے گاڑیوں کا استعمال کم ہونے کے باعث  پالیسی ہولڈرز کی جانب سے کم کلیم داخل کرنے کے باعث کی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here