ایٹمی ہتھیار بنانے والے ملک کیلئے وینٹی لیٹرز بنانا کوئی بڑا مسئلہ نہیں: وزیر اعظم

پہلے سرکاری ہسپتالوں پر سب کو اعتماد تھا اب پیسے والے لوگ سرکاری ہسپتال کا سوچتے بھی نہیں، چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے میڈیکل انفراسٹرکچر ٹھیک کرنا ہے: کامسٹیک ہیڈکوارٹرز میں خطاب

224

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے بعد ہم نے وینٹی لیٹرز اور دوسرا طبی سامان بنانے کا سوچا حالانکہ جو ملک ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے اس کیلئے یہ کیا مسئلہ ہے۔ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے میڈیکل انفراسٹرکچر ٹھیک کرنا ہے، اب حکومت کی توجہ طویل المدت منصوبہ بندی پر مرکوز ہے، ملکی ترقی کا ویژن دیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں کامسٹیک ہیڈکوارٹرز میں مقامی طور پر تیار کردہ طبی آلات و مصنوعات کی نمائش کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد، وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال، معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، فوکل پرسن برائے کووڈ۔19 ڈاکٹر فیصل بھی اس موقع پر موجود تھے۔

وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قوم کو ترقی سونے اور معدنیات کے ذخائر سے نہیں ملتی ایسا ہوتا تو معدنیات سے مالا مال افریقی ممالک ترقی میں سب سے آگے ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ خود اعتمادی کی دولت سے مالا مال قوم کسی بھی صورت حال اور مشکل کا سامنا کرنے کی طاقت رکھتی ہے، دنیا میں آزاد انسان اور قوم ہی آگے بڑھنے کے قابل ہوتی ہے، پاکستاں بھی ساٹھ کی دہائی تک ترقی کی جانب گامزن تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب میں نے شوکت خانم ہسپتال بنانے کا سوچا تو کہا گیا یہ ممکن نہیں، طرح طرح کی مشکلات تھیں لیکن آج کینسر پر وہاں بین الاقوامی سمپوزیم ہوتے ہیں، کورونا وائرس کے بعد ہم نے وینٹی لیٹرز اور دوسرا طبی سامان بنانے کا سوچا حالانکہ جو ملک ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے اس کیلئے یہ کیا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ 22 کروڑ لوگوں کیلئے ہر چیز درآمد نہیں کی جاسکتی، ماضی میں نالج اکانومی، تعلیم اور تحقیق پر پیسہ خرچ نہیں کیا گیا اس بارے میں سوچا ہی نہیں گیا، اگر ہمارے لوگ دوسرے ممالک میں جا کر کامیاب ہوسکتے ہیں تو یہاں کیوں نہیں، حکمران طبقات میں دوسرے ممالک اور اقوام سے مرعوبیت کا احساس رہا اور ان میں خود اعتمادی نہیں تھی، مجبوری میں جب ہم نے طبی آلات یہاں بنانے شروع کیے تو پتہ چلا ہم یہ بناسکتے ہیں،

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ماضی میں حکمران بیرون ملک چیک اپ اور علاج کراتے تھے، کھانسی کا علاج کرانے بھی وزیراعظم، ان کے خاندان کے افراد، وزراء اور ارکان اسمبلی بیرون ملک جاتے تھے، اب وہاں خطرہ زیادہ ہے اس لیے جا نہیں سکتے، جب تک وزیراعظم اور وزراء سرکاری ہسپتالوں میں علاج نہیں کرائیں گے ان کی حالت بہتر نہیں ہوگی، پہلے سرکاری ہسپتالوں پر سب کو اعتماد تھا اب پیسے والے لوگ سرکاری ہسپتال کا سوچتے بھی نہیں۔

عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا کہ کورونا وائرس سے یہ سامنے آیا کہ پہلے جو وبائیں آتی تھیں ان سے صرف غریب متاثر ہوتا تھا، کورونا امیر، غریب میں فرق نہیں کرتا، دنیا نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے وقت غریبوں کا نہیں سوچا، ایلیٹ نے فیصلہ کرلیا، مودی اتنا ڈرپوک نکلا کہ ایک دم سارا ملک بند کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہمیں نالج اکانومی، سائینس و ٹیکنالوجی کو ترقی دینی ہے، دفاعی پیداوار کا پرائیویٹ کنکشن پیدا کرنا ہے، اب ہماری پوری توجہ طویل مدت منصوبہ بندی پر مرکوز ہے، قوم کو پورے ملک کی ترقی کا ویژن دیں گے، کچی بستیوں اور غریبوں کو اوپر اٹھانے کیلئے اقدامات کریں گے اور انہیں چین کے تجربے سے سیکھتے ہوئے غربت سے نکالیں گے، قلیل مدت پالیسیوں سے ملک ترقی نہیں کرسکتے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بڑی تعداد میں پاکستانی ملک سے باہر ہیں، ملک میں میرٹ سسٹم نہیں تھا جس کی وجہ سے ہمارا ٹیلنٹ باہر گیا، ملک کا نظام ٹھیک کریں گے تو ٹیلنٹ واپس آئے گا۔

وزیراعظم نے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اور وزیر دفاعی پیداوار کو طبی آلات و مصنوعات کی تیاری پر مبارکباد دی اور کہا یہ یہ نیا پاکستان ہے، وزیراعظم نے نمائش میں لگائے گئے سٹالز کا دورہ کیا اور تیار کی گئی مصنوعات، و آلات کا معائنہ کیا اور بریفننگ لی، وزیراعظم نے مقامی سطح پر طبی آلات، مشینری و مصنوعات کی تیاری کو سراہا۔

قبل ازیں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اور وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here