کاروباری برداری کا سیلز ٹیکس ریٹرنز چند ماہ کیلئے موخر کرنے کا مطالبہ

رجسٹرڈ کاروباری اداروں کوآؤٹ پٹ ٹیکس کا 100 فیصد بطوراِن پٹ ٹیکس ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دینے، انکم ٹیکس جمع کرانے کی آخری تاریخ مزید بڑھانے کا بھی مطالبہ

320

اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر محمد احمد وحید نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام سے اپیل کی ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر مارچ 2020ء کیلئے سیلز ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ میں مزید ایک ماہ کی توسیع کی جائے تا کہ کاروباری طبقہ کو  مشکلات سے بچایا جا سکے۔

حکومت نے مارچ 2020ء کے سیلز ٹیکس ریٹرن کی آخری تاریخ میں 30 اپریل  2020ء تک توسیع کی تھی لیکن کورونا وائرس کے باعث ابھی تک اکثر صنعتی و کاروباری ا دارے اور بندرگاہیں بند ہیں جس وجہ سے کاروبار طبقہ کیلئے مارچ کے سیلز ٹیکس ریٹرن جمع کرانا مشکل ہے۔

بدھ کو ایک بیان میں انہوں نے  مطالبہ کیا کہ ایف بی آر مارچ کے سیلز ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ میں مزید ایک ماہ کی توسیع کرے تاکہ کاروباری طبقہ کو سیلز ٹیکس جمع کرانے میں سہولت محسوس کریں۔

انہوں نے کہا بہتر تو یہ ہے کہ حکومت موجودہ مشکل حالات کے پیش نظر سیلز ٹیکس ریٹرن کی ادائیگی کو آئندہ چند ماہ کیلئے مؤخر کر دے، سیلز ٹیکس ریٹرن کا تعلق براہ راست کاروباری سرگرمیوں سے ہوتا ہے، جب کاروباری سرگرمیاں ہی بند ہیں تو سیلز ٹیکس ریٹرن کیسے جمع کرائے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

حکومت پرچون فروشوں، چھوٹے کاروباروں کو سیلز ٹیکس 5 فیصد، انکم ٹیکس و بجلی کے بل معاف کرے: چیئرمین فیدمک

کووڈ 19 سے ریٹیل سیکٹر شدید متاثر، لیکن ’سو کمال ‘ جیسے برانڈ عالمی وباء کا مقابلہ کیسے کر رہے ہیں؟

45 دن کے لاک ڈاؤن سے ریٹیل سیکٹر کو 900 ارب روپے نقصان، لاکھوں نوکریاں ختم ہونے کا خدشہ

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت سیلز ٹیکس ریٹرنز کو آئندہ چند ماہ تک مؤخر کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کرے جس سے کاروباری طبقے کو بہتر ریلیف فراہم ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے کاروباری طبقے کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ رجسٹرڈ کاروباری اداروں کوآؤٹ پٹ ٹیکس کا 100 فیصد بطوراِن پٹ ٹیکس ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دی جائے جس سے ان کی مشکلات میں کچھ کمی واقع ہو گی۔

انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں اس امتیاز کو ختم کر کے رجسٹرڈ کاروباری اداروں کو آؤٹ پٹ ٹیکس کا سو فیصد بطور ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹ کرنے کی سہولت فراہم کی جائے۔

محمد احمد وحید نے مزید کہا کہ حکومت نے کنسٹریکشن انڈسٹری کو انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 111سے مستثنیٰ قرار دے کر ایک اچھا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس سے کنسٹریکشن شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت تمام شعبوں کیلئے نان رجسٹرڈ گاہکوں کو بھی 3 فیصد اضافی ٹیکس کی چھوٹ دے کیونکہ اس سے مصنوعات کی قیمت ان کیلئے مہنگی ہو جاتی ہے جس سے کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ رجسٹرڈ اور نان رجسٹرڈ گاہکوں کیلئے ٹیکس کا فرق ختم کرنے سے کاروباری سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here