ملازمین کی تنزلی: اسلام آباد ہائی کورٹ نے زرعی ترقیاتی بنک کے اقدامات پر سوالات اُٹھا دیے

150 ملازمین بشمول 21 نائب صدور ترقی پانے کے بعد تنزلی کا شکار، جسٹس اطہر من اللہ نے اقدام کو بادی النظر میں آئین کی خلاف ورزی قرار دے دیا

150

اسلام آباد: زرعی ترقیاتی بنک کے 21 نائب صدور سے مبینہ ناجائز ترقی کی بناء پر لی جانے اضافی تنخواہوں کی واپسی کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم امتناع برقرار رکھتے ہوئے بنک سے جواب طلب کرلیا۔

واضح رہے کہ ایڈوکیٹ عمر اعجاز گیلانی کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ملک میں  زرعی شعبے کے سب سے بڑے مالیاتی ادارے کی جانب سے 150 ملازمین بشمول  21 نائب صدور کی مبینہ غیر قانونی تنزلی کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی ۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کسی بھی ملازم کی تنزلی بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری سے ہی کی جا سکتی ہے مگر اس معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا بلکہ ملازمین کو سنے بغیر ایک میمورنڈم جاری کرکے یہ فیصلہ کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا سے متاثرہ ملازمین تاحال آن ڈیوٹی، بنک آف خیبر نے لاپرواہی کی انتہا کردی

16 ٹرینیں نجی شعبے کے حوالے، پاکستان ریلوے کا منصوبہ حتمی مرحلے میں داخل

آئی ایم ایف کی جانب سے قرضوں میں ریلیف سے پاکستان کو کتنا فائدہ ہوگا؟

معاملے کی سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت میں ہوئی جہاں بنک کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں درخواست دینے والے تمام 21 درخواست گزاروں کی بنک کے سامنے حاضری زیر التواء ہے لہٰذا معاملے کی درخواست خارج کی جائے۔

تاہم وہ عدالت کے اس سوال کا کوئی جواب نہ دے سکے کہ تنزلی سے پہلے ملازمین کا مؤقف سنا گیا تھا یا نہیں۔

جس پر جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں بنک کا فیصلہ غیر قانونی ہے کیونکہ یہ آئین کے آرٹیکل 10 A کی خلاف ورزی ہے جو کسی بھی فیصلے سے پہلے ملازمین کو صفائی کا موقع دیتا ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل عمر اعجاز گیلانی نے عدالت  کے سامنے زرعی ترقیاتی بنک کے کام کرنےکو ہی غیر قانونی قرار دے دیا۔ انکا کہنا تھا کہ بنک بورڈ آف ڈائریکٹرز کے بغیر کام کر رہا ہے جس کی وجہ سے ملازمین کی تنزلی کے  حوالے سے جاری ہونے والے میمورنڈم سمیت اسکے کئی اقدامات غیر قانونی ہیں۔

وفاقی حکومت کو بنک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے قیام کا حکم دینے کی استدعا پرجسٹس اطہر من اللہ  کا کہنا تھا کہ ملازمین کی تنزلی کے فیصلے پر بنک کا مؤقف آنے کے بعد ہی عدالت اس حوالے سے کوئی اقدام اُٹھائے گی۔

بعد ازاں عدالت نے درخواست گزاروں سے پروموشن پریڈ کے دوران لی جانے والی اضافی تنخواہوں کی واپسی روکتے ہوئے معاملے کی سماعت 4 مئی تک مؤخر کردی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here