بھاری ٹیکسوں، ناقص پالیسیوں کی وجہ سے سیمنٹ سیکٹر کو بدترین خسارے کا سامنا

جنوری سے مارچ تک اوسط منافعے میں 123 فیصد کمی جبکہ رواں مالی سال کی تین سہ ماہیوں میں 27.6 ارب کا منافع 1.56 ارب کے نقصان میں تبدیل ہوگیا

313

اسلام آباد: بجٹ 2019-20 میں بھاری ٹیکسوں اور نئی  ایکسل لوڈ پالیسی کے باعث سیمنٹ سیکٹر کو پچھلے نو ماہ سے بھاری خسارے کا سامنا ہے۔

اس خسارے کا آغاز حکومت کی جانب سے ڈیوٹی ٹیکس 33 فیصد بڑھانے اور نئی ایکسل لوڈ پالیسی متعارف کروانے کے بعد ہوا جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں اضافے کے باعث سیمنٹ کی بوری 50 سے  75 روپے مہنگی ہوگئی۔

ذرائع کے مطابق ملک کی بڑی سیمنٹ کمپنیوں نے رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں زبردست گھاٹا ظاہر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

فوجی سیمنٹ کمپنی کو 8 سال کے دوران پہلی مرتبہ کسی ایک سہ ماہی کے دوران خسارہ

زمین کا تنازعہ دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے آڑے آنے لگا

شوگر کمیشن سے نکالے جانے والے افسر نے چینی کی برآمد میں بے باضابطگیوں سے پردہ اُٹھا دیا

2020 کے پہلے تین ماہ میں سیمنٹ سیکٹر کے اوسط منافع میں 123 فیصد کمی واقع ہوئی یعنی کمپنیوں کو 8.50 ارب روپے کے منافع سے 1.97 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

مزید برآں مالی سال کے 9 مہنیوں ( جولائی سے مارچ) میں سیمنٹ کمپنیوں کے منافع میں 106 فیصد کمی ہوئی یعنی کمپنیوں کو 27.6 ارب کے منافع سے  1.56 ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

کمپنیوں کے ڈیٹا کے مطابق اٹک سیمنٹ کو منافع میں 37 فیصد ، بیسٹ وے سیمنٹ کو منافع میں منفی 117 فیصد، ڈی جی خان سیمنٹ کو منافع میں منفی  214 فیصد،  فوجی سیمنٹ کو منفی  134 فیصد، کوہاٹ سیمنٹ کو منفی  159 فیصد، لکی سیمنٹ کو منفی  64 فیصد اور میپل لیف سیمنٹ کو منافع میں منفی 466 فیصد کمی واقع ہوئی۔

مالی سال 2020 کی تیسری سہ ماہی میں بیسٹ وے سیمنٹ نے 441 ملین روپے، ڈی جی خان سیمنٹ نے  1.003 ارب روپے، فوجی سیمنٹ نے 210 ملین روپے، کوہاٹ سیمنٹ نے 381 ملین روپے اور میپل لیف سیمنٹ نے منفی 1.281 ارب روپے کا نقصان ظاہر کیا۔

البتہ اٹک سیمنٹ اور لکی سیمنٹ نے اس عرصے میں بالترتیب  353 ملین اور  999 ملین کا منافع کمایا مگر یہ گزشتہ سال کی نسبت بالترتیب 37 فیصد اور 64 فیصد کم ہے۔

واضح رہے کہ فروری 2019 میں پلوامہ حملے کے بعد بھارت کو سیمنٹ کی برآمد بند ہونے اور اگست 2019 میں کشمیرمیں کرفیو کے نفاذ کے بعد پاکستان کی جانب سے بھارت سے تجارت مکمل طور پر ختم کرنے سے ملکی سیمنٹ سیکٹر کو شدید دھچکا لگا ہے کیونکہ ان اقدامات سے پہلے ماہانہ 75 ہزار سیمنٹ کی بوریاں بھارت برآمد کی جاتی تھیں۔

ادھر سی پیک کے تحت منصوبوں کی تعمیر کے آغاز کے بعد سیمنٹ کمپنیوں نے اپنی پیداواری صلاحیت  کو 44 ملین ٹن سے 69 ملین ٹن تک بڑھا دیا تھا تاہم ملک میں سیاسی عدم استحکام کے باعث سی پیک منصوبوں کی تعمیر سست پڑنےسے سیمنٹ کمپنیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here