کورونا کے باوجود ترسیلات زرکا حجم 21 ارب ڈالر رہنے کا امکان

عالمی بینک کی رپورٹ میں ظاہر کردہ خدشات غیرحقیقی، بینکنگ ذرائع سے ترسیلات زربجھوانے کی حوصلہ افزائی کیلئے جامع اقدامات اٹھائے ہیں: ترجمان وزارت خزانہ 

142

اسلام آباد: وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ جاری مالی سال کے دوران کورونا وائرس کے باعث معاشی دبائو کے باوجود بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زرکا حجم 20 سے21 ارب ڈالر تک رہنے کاامکان ہے۔

منگل کو جاری بیان میں وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ترسیلات زرمیں اضافہ کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے اچھے نتائج سامنے آئے تھے، جاری مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں ترسیلات زرکا حجم 17 ارب ڈالر تک پہنچا ہے، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں ترسیلات زر کا حجم 16 ارب ڈالر تھا، یوں ایک سال کے عرصہ میں ترسیلات زرمیں 6.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اس رحجان کے تناظرمیں میڈیا میں عالمی بینک کی رپورٹ،جس میں کہاگیا ہے کہ مارچ کے بعد ترسیلات زرنہیں ہوگی، میں ظاہر کئے گئے خدشات انتہائی غیرحقیقی ہیں، ترسیلات زرکے موجودہ رحجان کودیکھتے ہوئے کورونا وائرس کی وباء کے اثرات کے باوجود مالی سال 2019-20 ء کے اختتام پر ترسیلات زر کاحجم 20 اور 21 ارب ڈالرکے قریب رہنے کا امکان ہے۔

ترجمان وزارت خزانے کے مطابق سرکاری بینکنگ ذرائع سے ترسیلات زر بجھوانے کی حوصلہ افزائی اورترغیبات کے ضمن میں حکومت نے پہلے سے کئی اقدامات اٹھائے ہیں، 100 سے لیکر200 ڈالر تک کی ترسیلات زرپر ٹی ٹی چارجزایس اے آر 10 سے بڑھا کرایس اے آر20  کر دئیے گئے ہیں، اس سے حکومت کو3 ارب روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرناپڑے گے۔

یہ بھی پڑھیے:

عالمی معاشی بحران، جنوبی ایشیا کو ترسیلات زر میں 109 ارب ڈالر خسارے کا امکان

خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زرمیں 5.46 فیصد اضافہ ہوا، سٹیٹ بینک

کورونا وائرس: خلیجی ریاستوں میں 21 ہزار پاکستانی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے

اسی طرح ایک ڈالر پر ایک روپیہ کی ترغیب کی سکیم میں بہتری لائی گئی ہے، ایک سال کے عرصہ میں فیصد بڑھوتری پر0.50 روپے، 10 فیصد بڑھوتری پر0.75 روپے، اور15 فیصد گروتھ پرایک روپیہ کی ترغیب دی جائے گی، اس سے حکومت کواضافی 600 ملین روپے کے اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔

ترجمان نے کہا کہ قانونی بینکنگ ذرائع سے ترسیلات زرکی حوصلہ افزائی کیلئے بنک اکاونٹ سے رقوم نکالنے یا کیش ٹرانسفرز کی صورت میں یکم جولائی سے وِد ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کااعلان کیا گیا ہے اورایف بی آر کو اس ضمن میں انکم ٹیکس آرڈی نینس میں ترمیم لانے کی درخواست کی گئی ہے۔

یکم ستمبر2020ء سے بڑے کمرشل بنکوں اورحکومتی ایجنسیوں کی شراکت سے قومی رِیمی ٹینس لائلٹی پروگرام شروع کیا جائے گا، اس سکیم کے تحت ترسیلات زرارسال کرنے والوں کو موبائل ایپس اورکارڈز کے ذریعہ کئی ترغیبات دی جائیں گی۔

ترسیلات زرپرٹی ٹی چارجز کی بنکوں کو واپسی کا عرصہ 12 ماہ سے کم کرکے 6 ماہ کرنے کیلئے 9.65 ارب ڈالرکی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ان اقدامات کے علاوہ موجودہ حکومت نے خلیجی ریاستوں کے ساتھ سفارتی تعلقات کوبہتربنایا جس کے نتیجہ میں پاکستانی افرادی قوت پر ان ممالک کے آجروں کے اعتمادمیں اضافہ ہوا، اس کے نتیجہ میں خلیجی ریاستوں کو پاکستانی افرادی قوت کی برآمد میں جولائی سے لیکرفروری تک کے عرصہ میں نمایاں اضافہ ہواہے۔

ترجمان نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ میڈیا رپورٹس میں عالمی بینک کے اندازوں کے مطابق گزشتہ سال ترسیلات زرکا حجم 22.5 ارب ظاہر کیا گیا ہے جبکہ حقیقت میں گزشتہ مالی سال کے اختتام پرترسیلات زرکاحجم 21.7 ارب ڈالرتھا۔

وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہا کہ عالمی بینک نے غیرحقیقی اعدادوشمارکی بنیاد پر حکومت کی جانب سے ترسیلات زرکی حوصلہ افزائی کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کو نظرانداز کرکے اندازے لگائے ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کورونا وائرس کی وباء اورلاک ڈاون کی وجہ سے معیشت میں سست روی اورتیل کی قیمتوں میں کمی جیسے کئی اقتصادی چینجز ابھرکرسامنے آئے ہیں جس سے ترسیلات زرکاعمل سست رفتارہوسکتا ہے۔

تاہم اس ترسیلات زر پر اس کے اثرات وباء کے عرصہ اورشدت پرمنحصرہے، ایسا لگ رہا ہے کہ عالمی بینک نے زمینی حقائق کے بر عکس بدترین منظرنامہ کو سامنے رکھتے ہوئے قیاس آرائی سے کام لیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here