کورونا لاک ڈاؤن: خیبر پختونخوا میں 27 لاکھ افراد کے سر پر بے روزگاری کی تلوار لٹکنے لگی

تعمیراتی شعبے کے 92 فیصد، ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے 76 فیصد، ہول سیل، ریٹیل اور ہوٹلنگ کی صنعت سے وابستہ 78 فیصد افراد کا روزگار ختم ہونے کا خطرہ

245

پشاور: کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی معاشی بد حالی نے خیبر پختونخوا کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ملازمین کے روزگار کو خطرے سے دو چار کردیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام ( UNDP) اور صوبائی حکومت کے پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ پروگرام کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق مہلک وائرس کی روک تھام کے لیے نافز شدہ لاک ڈاؤن اور دوسری پابندیوں کی وجہ سے 27 لاکھ سے زائد ملازمین کے روزگار کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

دونوں اداروں کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق ملازمتوں میں کمی کا سب سے زیادہ خطرہ کنسٹرکشن، ریٹیل، ہول سیل اور ہوٹل انڈسٹری کے ملازمین کو ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

’2020ء نوکریاں دینے کا سال‘ وزیر اعظم عمران خان کا یہ بیان کتنا حقیقت پر مبنی ہے؟

سرکاری و نجی بینک معذورافراد کو تربیت اور ملازمتیں فراہم کریں  : صدر مملکت

الیکٹرک وہیکلز پالیسی بن گئی، لیکن کیا پاکستان میں بجلی پر گاڑیاں چلانے کا منصوبہ کامیاب ہو پائے گا؟

سب سے زیادہ خطرے میں تعممیراتی شعبے کے ملازمین ہیں جس کے  8 لاکھ  پچاسی  ہزار 1 سو 74 ملازمین میں سے 92 فیصد یعنی 8 لاکھ 12 ہزار 7 سو 66  ملازمین کا روزگار ختم ہوسکتا ہے۔

دوسرا نمبر ہول سیل اور ریٹیل کے کاروبار اور ہوٹلنگ کی صنعت کا ہے جن کے سترہ لاکھ پچاس ہزار ملازمین میں سے 78 فیصد یعنی 8 لاکھ  چالیس ہزار  486  کی نوکریاں ختم ہونے کا خطرہ ہے۔

اسی طرح ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبے کے پانچ لاکھ  58 ہزار  919 میں سے 76 فیصد یعنی چار لاکھ  24 ہزار  918 ملازمین کا روزگار خطرے میں ہے۔

مزید برآں پیداواری شعبے کے 72 فیصد، فنانس اینڈ انشورنس کے 37 فیصد،  کان کنی کے  45 فیصد، سوشل سروسز کے 14 فیصد اور بجلی ، گیس اور پانی کے شعبے سے وابستہ 13 فیصد افراد کا روزگار ختم ہونے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تعمیراتی شعبے میں سات لاکھ دس ہزار، پیداواری شعبے میں 87 ہزار، ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبے میں ساٹھ ہزار اور ہول سیل اور ریٹیل سیکٹر میں 51 ہزار افراد یومیہ اُجرت پر کام کرتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here