کاروباری و صنعتی اداروں کیلئے بینک مارک اَپ ایک سال کیلئے موخر کیا جائے: اسلام آباد چیمبر

165

اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد احمد وحید نے کہا کہ بہت سے کاروباری و صنعتی اداروں نے رننگ فنانس اور ورکنگ کیپٹل کیلئے کمرشل بینکوں سے قرضے حاصل کر رکھے ہیں جن پر ان کو ماہانہ مارک اپ دینا پڑتا ہے لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے اکثر کاروباری ادارے بند ہیں جس وجہ سے ان کیلئے رننگ فنانس پر مارک اپ ادا کرنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام کاروباری و صنعتی اداروں کے رننگ فنانس اور ورکنگ کیپٹل پربینک مارک اپ کم از کم چھ ما ہ سے ایک سال کیلئے موخر کیا جائے  یہ ادارے دیوالیہ ہونے سے بچ سکیں۔

محمد احمد وحید نے کہا کہ جو کاروباری ادارے رننگ فنانس پر مارک اپ ادا کرنے کے قابل نہیں رہے بینک ان کے نام الیکٹرانک کریڈٹ انفارمیشن بیورو کی ڈیفالٹر لسٹ میں ڈال رہے ہیں جس وجہ سے مستقبل میں ان کاروباری اداروں کیلئے کمرشل بینکوں سے قرضہ حاصل کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: 

سٹیٹ بینک کی بینکوں ، مالیاتی اداروں کو آئندہ دو سہ ماہیوں کے لیے ڈیوڈنڈز معطل کرنے کی ہدایت

گورنر سٹیٹ بینک کی ایمپلائز فیڈریشن آف پاکستان کے ڈائریکٹرز سے ویڈیو کانفرنس، کارکنوں کی تنخواہوں کی ری فنانس سکیم پر تبادلہ خیال 

انہوں نے کہا کہ کاروباری ادارے بینکوں سے قرضہ حاصل کر کے اپنے کاروبار کو وسعت دیتے ہیں اور کاروباری سرگرمیوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والے ریونیو سے قرضوں کی اقساط اور مارک اپ ادا کرتے ہیں۔

تاہم آج کل چونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے پورے ملک میں چند شعبوں کے علاوہ باقی تمام کاروباری وصنعتی ادارے بند ہیں لہذا ان حالات میں کاروباری طبقے کیلئے قرضوں کی اقساط اور مارک اپ ادا کرنا تقریبا ناممکن ہو گیا ہے۔

آئی سی سی آئی کے صد رنے کہا کہ سٹیٹ بینک نے صنعتی و کاروباری اداروں کے ورکروں کو بے روزگار ہونے سے بچانے کیلئے ایس ایم ایز کیلئے ریلیف پیکج جاری کئے ہیں جو قابل ستائش ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سٹیٹ بینک کمرشل بینکوں کے ساتھ مل کر رننگ فنانس پر مارک اپ کی مد میں بھی صنعتی و کاروباری اداروں کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کرے۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری و صنعتی اداروں کیلئے کمرشل بینکوں کے قرضوں پر نظرثانی کر کے قرضوں کی اقساط اور مارک اپ ادا کرنے کیلئے کاروباری اداروں کو کم از کم چھ ماہ سے ایک سال کا وقت دیا جائے تا کہ صنعتی وکاروباری ادارے دیوالیہ ہونے سے بچ سکیں اور اپنی کارباری سرگرمیوں کو بحال کرکے قرضوں اور مارک اپ کی ادائیگی کرنے میں سہولت محسوس کریں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here