وفاقی کابینہ کی جانب سے فروری 2019 سے ضروری ادویات کی منظوری کے لیے زیرِالتوا ہے، ڈریپ

129

کراچی: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی جانب سے فروری 2019 کو لازمی ادویات کی منظوری دی گئی تھی جبکہ وفاقی کابینہ کو ابھی تک نئی ناول مالیکیول کی باضابطہ عمل داری کی رجسٹریشن کی منظوری دینا ابھی باقی ہے۔ 

رجسٹریشن کی منظوری میں تاخیر کی وجہ سے پاکستان میں مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے بہت سے مریض محروم ہوئے ہیں۔

یہ معلوم ہوا ہے کہ ڈریپ کی قیمتیں مقرر کرنے والے کمیٹی اجلاس فروری 2019 میں منعقد ہوا جو کابینہ نے ابھی تک منظور نہیں کیا جس کا مطلب ہے کہ اتھارٹی نے پہلے ہی سے اہم ڈرگز کی منظوری دے رکھی تھی لیکن ایک سال سے زائد عرصے سے وفاقی کابینہ سے حتمی منظوری لینے میں ناکام رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ڈریپ نے غیر لائسنس یافتہ کمپنیوں کو ہینڈ سینی ٹائزر بنانے سے روک دیا

پاک، افغان تجارت ہفتے میں تین روز، ادویات و خوراک کی ترسیل کی اجازت ہو گی، اسد عمر

یہ ڈرگز اور مصنوعات زکام، ہیپاٹائٹس بی اور ای، بریسٹ کینسر، ملیریا اور اے ڈی ایچ ڈی کے علاوہ کئی دیگر ادویات شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ ڈرگز اور مصنوعات دیگر ممالک میں آسانی سے دستیاب ہیں لیکن پاکستان میں یہ ادویات کابینہ سے منظوری کی منتظر ہیں۔

اس حوالے سے پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن(پی پی ایم اے) نے چیف ایگزیکٹو ڈریپ عاصم رؤف سے فروری 2019 کے دیرینہ ڈی پی سی کی منظوری کے لیے کابینہ کے سامنے معاملہ اٹھانے کی درخواست کی ہے۔

ایسوسی ایشن نے ڈریپ کو ایک خط میں لکھا کہ لازمی ادویات کی بنا کسی رکاوٹ کے دستیابی کے لیے اتھارٹی کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے یقین دہانی کرانی چاہیے۔

خط میں کہا گیا کہ “پی پی ایم اے دوبارہ نے اتھارٹی سے درخواست کرتی ہے کہ وہ ملک کے مریضوں کے بہترین مفاد میں کابینہ کے ذریعے ڈی پی سی منظور کرنے کی پوری کوشش کرے”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here