ریلیف پیکج نہ ملنے پر چین سٹورز ایسوسی ایشن کی یکم مئی سے کاروبار بند کرنے کی دھمکی

'حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث ریٹیل سیکٹر سے وابستہ لاکھوں خاندان معاشی بدحالی کی طرف گامزن ہیں، لاک ڈاؤن ختم ہونے تک نقصان 900 ارب روپے تک جا پہنچے گا'

390

لاہور: چین سٹورز ایسوسی ایشن آف پاکستان (سی اے پی) نے حکومت کی جانب سے ریلیف پیکیج نہ ملنے کی وجہ سے احتجاجاََ یکم مئی سے کاروبار بند رکھنے کی دھمکی دے دی۔ 

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چئیرمین سی اے پی رانا طارق نے کہا ہے کہ کوروناوائرس کا پھیلائو روکنے کیلئے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کے باعث ریٹیل سیکٹر تباہ ہو رہا ہے، ریٹیلرز کے لیے دکانوں کے کرائے، بجلی کے بل اور ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

انہوں نے حکومت کی جانب سے ریلیف نہ ملنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “بدقسمتی سے حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے امداد کا اعلان نہیں کیا”۔

یہ بھی پڑھیے:

45 دن کے لاک ڈاؤن سے ریٹیل سیکٹر کو 900 ارب روپے نقصان، لاکھوں نوکریاں ختم ہونے کا خدشہ

کورونا لاک ڈاؤن: خیبر پختونخواہ میں 27 لاکھ افراد کے روزگار پر تلوار لٹک گئی

کورونا وائرس نے ملک کے ممتاز صنعت کار مہتاب الدین چاولہ کی جان لے لی

انہوں نے کہا کہ صرف کچھ دکانوں کے مالکان کرایوں میں رعایت کے معاملے میں تاجروں کو ریلیف دے کر حکومتی ہدایات پر عمل پیرا ہیں۔

“حکومت کی جانب سے جہاں ریلیف نہیں دیا جائے گا یکم مئی سے وہاں تمام کاروبار مستقل بند کر دیے جائیں گے، کام صرف مراعات دیے گئے علاقوں میں کیا جائے گا، اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو لاکھوں ریٹیل ملازمین کی نوکریاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔”

چیئرمین سی اے پی کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے نفاذ سے ریٹیل سیکٹر کو خام مال خریدنے کے لیے مشکلات کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں اربوں روپے کے آرڈرز منسوخ ہو رہے ہیں۔

پرافٹ اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن 200 سے زائد فیشن، فوڈز اور سوپرمارکیٹس وغیرہ کے برانڈز پر مشتمل ہے۔ لاک ڈاؤن اور حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث لاکھوں خاندان معاشی بدحالی کی طرف گامزن ہیں کیونکہ لاک ڈاؤن کی مدت (10 مئی) ختم ہونے تک ریٹیل سیکٹر کا نقصان 900 ارب روپے تک جا پہنچے گا۔

رانا طارق نے کہا کہ “1500 ارب روپے کی مصنوعات گوداموں میں پڑی ہیں جبکہ 500 ارب روپے کا کا مال پہلے سے سٹورز میں موجود ہے۔”

انہوں نے کہا کہ مکمل لاک ڈاؤن سے ریٹیل سیکٹر میں بڑے پیمانے پر سرمائے کی قلت پیدا ہوئی ہے اور حکومت نے مقامی کاروباروں کو سہولت دینے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا کیونکہ حکومت کے پاس درمیانے اور چھوٹے درجے کے کاروباروں کے لیے کوئی منصوبہ نہیں، یہ شعبہ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے۔

واضح رہے کہ سوموار کو وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے لاک ڈائون سے متاثرہ چھوٹے کاروباروں کیلئے 50 ارب روپے کے ریلیف پیکج کی منظوری دی تھی جس کے تحت چھوٹے کاروبار والوں کے3 ماہ کا بل حکومت اداکرے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here