اگلے مالی سال کے لیے ایف بی آر کا ریونیو ہدف 5.1 ارب روپے رکھے جانے کا امکان

کورونا کے باعث اپریل کے مہینے میں 500 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف پورا نہ ہونے کا امکان، ڈیوٹی چھوٹ کے بعد آٹے، دالوں، خوردنی تیل اور چینی سے بننے والی مصنوعات کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد کمی متوقع

139

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ترجمان اور ممبر اِن لینڈ ریونیو ڈاکٹر حامد عتیق نے آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس ہدف 5 ہزار ایک سو ارب روپے رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ مالی سال 2019-20 کے لیے نظرثانی شدہ ریونیو ہدف معاشی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے پر حاصل کرلیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اپریل کے اواخر تک ایف بی آر کو 500 ارب روپے اکٹھا کرنے ہیں مگر فی الحال 145 ارب روپے ہی اکٹھے کیے جا سکے ہیں اور کورونا کے باعث جاری لاک ڈاؤن اور دوسرے عوامل کے باعث ممکن ہے کہ صرف 210 ارب روپے ہی جمع کیے جاسکیں۔

یہ بھی پڑھیے:

لاک ڈاؤن، پیٹرول کی کھپت میں کمی سے ایف بی آر کی آمدن میں 45 ارب روپے خسارہ

آئی ایم ایف کی جانب سے قرضوں میں ریلیف سے پاکستان کو کتنا فائدہ ہوگا؟

کورونا سے متاثرہ ملازمین تاحال آن ڈیوٹی، بنک آف خیبر نے لاپرواہی کی انتہا کردی

کورونا کے تناظر میں حالیہ جاری کیے جانے والے (Statutory Notification (SROs  سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے خوردنی تیل، دالوں ، گندم، آٹے اور چینی سے بننے والی مصنوعات پر ڈیوٹی کی چھوٹ دی ہے جس کے بعد اُمید ہے کہ آنے والے دنوں میں اِن اشیا کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد کمی واقع ہوگی۔

 ڈاکٹر حامد عتیق نے بتایا کہ وزارت صحت نے موجودہ حالات میں ضروری درآمد کی جانے والی 61 اشیا کی فہرست ٹیکس چھوٹ کے لیے ایف بی آر کو بھجوائی تھی جس کا جائزہ لینے کے بعد 19 اشیا کو اس فہرست سے نکال دیا گیا کیونکہ ان اشیا کی درآمد حکومت کی جانب سے نہیں کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے ان تمام اشیا کو مسترد کردیا جن میں مطابقت اور معیار کا مسئلہ تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ہنگامی بنیادوں پر سات ارب روپے مالیت کی اشیاء درآمد کی گئیں۔

تعمیراتی صنعت کو دیے جانے والے پیکج اور فکسڈ ٹیکس سے متعلق سوال پر انکا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے اس حوالے سے آرڈیننس کی منظوری کے بعد تمام انتظامات  مکمل کرلیے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here