کووڈ 19 سے عالمی سیاحت تباہی کے دہانے پر، 5 کروڑ نوکریاں ختم ہونے کا خدشہ

مارچ میں دنیا بھر میں 11 لاکھ فلائٹس کینسل کی گئیں، بکنگ میں 50 فیصد کمی، اپریل کی بکنگ میں 40 فیصد اور مئی کے لیے فلائٹ بکنگ میں 25 فیصد کمی ہوئی ہے

113

اسلام آباد: کورونا وائرس اور لاک ڈائون کے باعث دنیا بھر میں سماجی اور معاشرتی رویوں میں رونما ہونے والی تبدیلی کے باعث معمولات زندگی بھی تیزی سے بدل رہے ہیں۔

لاک ڈاؤن کے باعث سفر اور سیاحت کے شعبوں میں بھی نئے رجحانات نے جنم لیا ہے کیونکہ کووڈ 19 نے سیاحت کی صنعت کو مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے اور اِس سے سفر کے بارے میں بنیادی تصورات بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔

ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل کے مطابق وباء کی وجہ سے دنیا بھر میں سیاحت سے منسلک 5 کروڑ نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں۔

انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کے تخمینہ کے مطابق رواں سال عالمی سطح پر ہوا بازی کی صنعت کو 113 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو سکتا ہے۔ ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ مارچ میں دنیا بھر میں 11 لاکھ فلائٹس کینسل کی گئیں اور بکنگ میں 50 فیصد کمی آئی جبکہ اپریل کی بکنگ میں 40 فیصد اور مئی کے لیے فلائٹ بکنگ میں 25 فیصد کمی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

کرونا وائرس: چین کی معیشت پر دباؤ بڑھنے لگا، سیاحتی شعبہ سب سے زیادہ متاثر

آئندہ برسوں میں خلائی سیاحت کا سالانہ حجم 10 کھرب ڈالر ہو جائیگا

پاکستان میں سفرکا منظر نامہ بدلنے کرنے کیلئےدراز نے ڈی ٹریول کا آغاز کردیا

پروازوں کی بندش سے ایوی ایشن اتھارٹی کو تین ارب کا نقصان، پی آئی اے کا سٹاف کو چھٹیاں دینے کا فیصلہ

لاک ڈاؤن کی وجہ سے کئے گئے اقدامات سے بھی سیاحت کی صنعت کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ اِن اقدامات میں رضاکارانہ طور پر خود کو سب سے دور کر لینا اور عوامی اجتماعات پر پابندیاں وغیرہ شامل ہیں جس کی وجہ سے سیاحت پر انحصار کرنے والے ممالک مزید برے وقت کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

ساؤتھ آسٹریلیا یونیورسٹی میں ٹورازم مینجمنٹ کی پروفیسر فرییا ہگنز نے کہا ہے کہ وباء سے ہمیں ایک غیر متوقع اور قیمتی موقع ملا ہے کیونکہ دنیا میں کئی ایسے علاقے ہیں جو ضرورت سے زیادہ سیاحت کا شکار ہیں اور جہاں مقامی افراد بہت زیادہ سیاحوں کی آمد سے خوش نہیں ہیں۔ ان کو کچھ سکون ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم معیشتوں میں توازن اور حدود متعین نہیں کریں گے تو ایک کے بعد ایک بحران آتا رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاحت کو معاشی ترقی کے لیے استعمال کرنے پر دوبارہ سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالہ سے سائنسدان بھی اِس جانب اشارہ کر چکے ہیں کہ انسانوں کی جانب سے ماحول، حیاتیاتی تنوع اور قدرتی وسائل کو ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے اکثر وبائیں جنم لیتی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here