کورونا کے عالمی بحران کی وجہ آن لائن شاپنگ کے رجحانات کیسے بدل رہے ہیں؟

301

اسلام آباد: کورونا وائرس اور لاک ڈائون کے باعث دنیا بھر میں سماجی اور معاشرتی رویوں میں رونما ہونے والی تبدیلی کے باعث معمولات زندگی بھی تیزی سے بدل رہے ہیں۔

دنیا بھر میں آن لائن شاپنگ اتنی عام نہیں ہے جتنی شاید سمجھی جاتی ہے کیونکہ ان علاقوں میں بھی آن لائن خریداری بہت زیادہ نہیں ہے جہاں بہترین انٹرنیٹ موجود ہے تاہم کورونا کے عالمی بحران کی وجہ آن لائن شاپنگ کے رجحانات بھی تیزی سے بدل رہے ہیں۔

گزشتہ سال 2019ء کے اعداد و شمار کے مطابق یورپی یونین میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں میں سے 30 فیصد افراد نے دوران سال آن لائن خریداری نہیں کی تھی لیکن وبا کے بعد  55 سے 74 سال کے افراد میں اب یہ شرح بڑھ کر 45 فیصد ہو گئی ہے کیونکہ گھروں سے باہر نہ نکلنے کی وجہ سے صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

یورو مانیٹر تحقیقی ادارے کے مطابق آن لائن شاپنگ کے بارے میں عام لوگوں کا رویہ تبدیل ہو رہا ہے اور اس کا رجحان اس عمر کے لوگوں میں بھی بڑھ رہا ہے جو نئے تجربوں سے خائف رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

وبا کے دِنوں میں آن لائن خریداری میں اضافہ، پاکستان چین کے تجربے سے کیا سیکھ سکتا ہے؟

رات کے اوقات میں آن لائن خریداری میں نمایاں اضافہ

ایف بی آر نے برآمد کنندگان کے بینک اکاؤنٹ میں کسٹمز ڈیوٹی ڈرابیک کی آن لائن ادائیگی کے لئے سسٹم متعارف کرادیا 

کورونا کی وجہ سے آن لائن خریداری میں اضافہ، وال مارٹ کا ڈیڑھ لاکھ ملازمین بھرتی کرنے کا منصوبہ

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جہاں بھی لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے وہاں آن لائن خریداری میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

واضح رہے کہ چین میں 2003 میں سارس ( Severe Acute Respiratory Syndrome) کی وباء کے بعد سے ای کامرس استعمال کی جا رہی ہے، اس وقت وباء پھیلنے سے لاکھوں چینی شہری گھروں میں محصور ہو گئے تھے جس کے نتیجے میں آن لائن سیلز کی  شاندار راہیں کھلنے لگی تھیں۔

 2003 کی وباء کے بعد چین میں علی بابا گروپ اور جے ڈی ڈاٹ کام (JD.com) نامی دو ای کامرس کمپنیوں کا کاروبار خوب چمکا تھا۔

 2003 میں ہی تاؤ باؤ (Taobao) نامی چینی آن لائن کمپنی نے SARS کی وباء کے باعث اپنا ہیڈکوارٹر قرنطینہ بنا لیا تھا۔

پاکستان میں 2001 سے کاروباری مقاصد کے لیے ای کامرس استعمال ہو رہی ہے۔ اکثر ریٹیلرز کپڑوں کے آؤٹ لیٹ سے لے کر الیکٹرونک اشیاء کے سٹورز صارفین کو اپنی مصنوعات بیچنے کے لیے ویب سائٹس استعمال کر رہے ہیں۔

کورونا وائرس پھیلنے کے باعث ملک بھر میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، پاکستان اس حوالے سے چین کے تجربے سے سیکھ کر ملک میں ای کامرس کو مزید فروغ دے سکتا ہے۔

 تاہم سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اِس حوالے سے صارفین کو احتیاط کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بینکوں میں جانے اور اے ٹی ایم استعمال کرنے کی بجائے انٹرنیٹ بینکنگ اور موبائل فون بینکنگ کا استعمال زیادہ کریں۔

مرکزی بینک نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے تمام بینکوں اور فنانشل سیکٹر کو عوام اور کاروباری شعبوں میں سروسز فراہم کرنے کے خصوصی اقدامات کی اہم ذمہ داری دی ہے، سٹیٹ بینک کے اقدام کا مقصد ملک میں ای کامرس کو فروغ دینا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here