کورونا لاک ڈاؤن سے ریستوران انڈسٹری مالی بحران کا شکار، ریلیف پیکج کی اپیل

 لاک ڈاؤن مدت تک کرائے معاف، سیلز، ٹرن اوور ٹیکس ختم، ای او بی آئی کیلئے وصولیوں دسمبر 2020 تک مؤخر کی جائیں، اطہر چاؤلہ

245

کراچی: ریستوران مالکان نے ملک بھرمیں کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن اورکاروبار ی بندش کے نتیجے میں شدید مالی مشکلات کے باعث وزیراعظم عمران خان سے”ریلیف پیکیج“ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

آل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن (اپرا) کنوینر اطہر چاؤلہ نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ ملک بھرمیں تقریباً ایک لاکھ ریستوران ہیں اور20 سے 25 لاکھ افراد کا روزگار اس صنعت سے وابستہ ہے تاہم کورونا وائرس کی وبا نے ریستوران انڈسٹری کو بھی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے ریستوران کی مسلسل بندش سے شدید مالی بحران پیدا ہوگیا ہے جس سے نہ صرف لاکھوں افراد کا روزگار بری طرح متاثر ہوا ہے بلکہ نوبت فاقہ کشی تک پہنچ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

ریسٹورنٹس مالکان نے ماہ رمضان میں صرف5گھنٹے کھانوں کی ڈیلیوری کے دورانیے کو ناکافی قرار دے دیا

لیبر قوانین کی خلاف ورزیوں پر 100 سے زائد ریسٹورنٹس ، بک سٹورز کو  بھاری جرمانے

کیفے ذوق کے پاس آخر ایسا کیا ہے جو لاہور کی پوری ریسٹورنٹ انڈسٹری کے پاس نہیں؟

انہوں نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ کرونا کے باعث پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ریستوران انڈسٹری کے لیے خصوصی ”ریلیف پیکیج“ دیا جائے تاکہ اس صنعت کو تباہ ہونے اور لاکھوں ورکرز کو بے روزگار ہونے سے بچایا جاسکے۔

انہوں نے وزیراعطم سے درخواست کی کہ لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران کرائے معاف کیے جائیں اور آرڈیننس کے ذریعے لاک ڈاؤن کی مدت ختم ہونے کے بعد 6 ماہ تک 50 فیصد تک کرائے میں کمی کی جائے۔

انہوں نے سیلز ٹیکس کو دسمبر 2020 تک ختم کر نے، جنوری 2021 سے بمع اِن پٹ ٹیکس 5 فیصد چارج کرنے اور کم از کم ٹرن اوور ٹیکسز کو 2020 کے لیے ختم کرنے کی اپیل بھی کی۔

اطہر چاؤلہ نے کہا کہ یوٹیلٹی بلز اور تنخواہوں سے تمام ٹیکسز دسمبر 2020 تک ختم کیے جائیں اور تمام ڈیلی ویجرز کو ”احساس“ سکیم کے تحت 12 ہزار روپے دیے جائیں۔ انہوں نے وزیراعظم سے ای او بی آئی اور سوشل سیکورٹی کی ورکرز کی شراکت داری کی مد میں وصولیوں کودسمبر 2020 تک مؤخر کرنے کی بھی درخواست کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here