ٹیلی میڈیسن: کورونا وائرس اور لاک ڈائون شعبہ صحت کو کیسے تبدیل کر رہا ہے؟

عالمی وبا کے باعث ٹیلی میڈیسن کو تیزی سے ترقی ملی ہے اور روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر صحت کی سہولیات پہچانے کے لیے ٹیلی مواصلات اور ورچوئل ٹیکنالوجی کا استعمال مقبول ہوا ہے

97

اسلام آباد: کورونا وائرس اور لاک ڈائون کے باعث دنیا بھر میں سماجی اور معاشرتی رویوں میں رونما ہونے والی تبدیلی کے باعث معمولات زندگی بھی تیزی سے بدل رہے ہیں۔

کورونا کی عالمی وبا کے باعث ٹیلی میڈیسن کے شعبہ نے بھی تیزی سے ترقی کی ہے اور روایتی طریق کار سے ہٹ کر صحت کی سہولیات پہچانے کے لیے ٹیلی مواصلات اور ورچوئل ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے مقبول ہوا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کوورنا وائرس کی وباء کے تناظر میں مرض کی تشخیص اور علاج کے لیے ٹیلی ہیلتھ کا استعمال مزید اہم ہو گیا ہے اور عالمی ادارہ صحت نے بھی اِس رجحان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

کووڈ 19 سے عالمی سیاحت تباہی کے دہانے پر، 5 کروڑ نوکریاں ختم ہونے کا خدشہ

وزارت صحت فیس بک کے اشتراک سے کورونا وائرس سے بچائو بارے آگاہی مہم شروع کرے گی

’’صحت کہانی‘‘ کی کہانی۔۔۔ گھر بیٹھی خواتین ڈاکٹرز کو پریکٹس کی جانب لانے کا سٹارٹ اَپ، لیکن طبی اصولوں اور اخلاقیات کو نظرانداز کردیا گیا ہے

ماہرین صحت کہتے ہیں کہ اس طریقہ سے اخراجات میں کمی ہو گی اور صحت کی سہولیات تک آسان رسائی میں اضافہ ہو گا۔

امریکہ کی ویسٹ ورجینیا یونیورسٹی کے صحت عامہ کی پالیسی کے ماہر اسٹیو ڈیوس نے اس حوالہ سے کہا ہے کہ ٹیلی ہیلتھ خود ساختہ قرنطینہ میں مدد گار بن کر وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مدد گار ثابت ہو سکتا ہے جبکہ اِس کے ذریعے بیماریوں کا علاج بھی جاری رہ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے کورونا وائرس کے پیش نظر مریضوں کو صحت کی سہولیات کی آسان دستیابی ممکن بنانے کیلئے سروسز ہسپتال لاہور میں 20 مارچ کو ٹیلی میڈیسن سینٹر کا افتتاح کیا تھا جس کے بعد ناصرف پنجاب میں ایسے سینٹرز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی ٹیلی میڈیسن سینٹرز بنائے گئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here