چینی بحران کے انکوائری کمیشن کو رپورٹ جمع کرانے کے لیے مزید دو ہفتوں کی مہلت

303
Sack with pure sugar on table

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کو چینی بحران سے متعلق انکوائری کرنے والے کمیشن کو تفصیلی فرانزک آڈٹ رپورٹ جمع کرانے میں مزید دو ہفتوں کی مہلت دے دی گئی ہے۔ 

گزشتہ ماہ کمیشن نے وزیراعظم عمران خان کو چینی اور گندم بحران سے متعلق ابتدائی رپورٹ جمع کرائی تھی۔

وزیراعظم کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) واجد ضیا کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا گیا ہے ، واجد ضیا نے 32 صفحات پر مشتمل رپورٹ تیار کی تھی۔

ابتدائی رپورٹ کو غیرمعمولی قرار دیتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ انہیں کمیشن کی جانب سے تفصیلی فرانزک آڈٹ رپورٹ کا انتظار ہے، فرانزک آڈٹ رپورٹ 25 اپریل کو جمع کرائی جانی تھی۔ تاہم، حکومتی ذرائع نے کہا ہے کہ مذکورہ رپورٹ اب 9 مئی کو وزیراعظم کے سامنے پیش کی جائے گی۔

21 اپریل کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے اعلان کیاگیا تھا کہ انہوں نے حالیہ گندم اور چینی بحران کے تمام پہلوؤں پر جامع تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، بحران کے باعث چینی اور گندم کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

شوگر کمیشن سے نکالے جانے والے افسر نے چینی کی برآمد میں بے باضابطگیوں سے پردہ اُٹھا دیا

چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ یکطرفہ اور پراپیگنڈا پر مبنی ہے

18 کمپنیوں اور شوگر ملوں کو ذاتی پاور پلانٹس لگانے کی اجازت مل گئی

وزیراعظم عمران خان پر چینی، گندم بحران کی فرانزک رپورٹ سامنے لانے پر دباؤ بڑھنے لگا

چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں بیورو کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں سمگلنگ، قیمتوں میں اضافے، مبینہ سبسڈیز کے ذریعے اربوں روپے کی خرد برد اور حالیہ چینی اور گندم بحران سے متعلق دیگر اہم پہلوؤں پر تفتیش کا فیصلہ کیا گیا اور ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی عرفان منگی کو معاملے کی چھان بین کا ٹاسک دے کر ایک ماہ کے اندر رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔

رواں سال کے آغاز میں ملک کو چینی اور گندم کی سنگین قلت کا سامنا تھا جس سے دونوں اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بحران کے پیچھے وزیراعظم کے ساتھیوں پر اٹھنے والے الزامات کے باعث عمران خان نے انکوائری کمیشن قائم کیاتھا اور سکینڈل سے فائدہ اٹھانے والوں کو سخت سزا دینے کا وعدہ کیا تھا۔

4 اپریل کو ایف آئی اے کی جانب سے تفتیشی رپورٹ منظرِ عام پر لائی گئی تھی، رپورٹ میں کہاگیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے رہنماؤں جہانگیر ترین، خسرو بختیار،مونس الہٰی اور انکے رشتہ داروں نے بحران سے فائدہ اٹھایا تھا۔ تاہم ان توقعات کے برعکس رپورٹ میں کسی کو مصنوعی بحران کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا گیا تھا۔

بعدازاں، 6 اپریل کو وزیراعظم نے چینی اور گندم بحران سے متعلق رپورٹ کو غیرمعمولی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی کے خلاف کارروائی سے قبل انہیں تفصیلی فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے جو 25 اپریل کو منظرِ عام پر لانے کی توقع کی جا رہی تھی۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا تھا کہ کسی بھی طاقتور لابی کو پرافٹ لینے اور مستقبل میں اشیائے ضروریہ کے مصنوعی بحران پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اسی دن وزیراعظم عمران خان نے اگست 2018 میں اقتدار میں آنے کے بعد تیسری مرتبہ اپنی کابینہ میں ردوبدل کیا۔ ایف آئی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں خسروبختیار کا نام سامنے آنے پر انہیں وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی سے ہٹا کر اقتصادی امور کا قلمدان دیا گیا تھا۔

رپورٹ میں تجویز دی گئی تھی کہ جہانگیر ترین کو ملکی ایگریکلچر ٹاسک فورس کے چئیرمین کے عہدے سے ہٹایا جائے، تاہم جہانگیر ترین نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں کبھی بھی کسی پوزیشن پر تعینات نہیں کیا گیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here