خیبرپختونخوا کے تاجروں کا دکانیں جلد بند کرانے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کی دھمکی

286

پشاور: خیبرپختونخوا (کے پی) کی ٹریڈ ایسوسی ایشنز نے دکانیں چار بجے بند کرنے کے صوبائی حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے پر خبردار کیا ہے۔ 

کے پی حکومت نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے تمام دکانیں جلدی بند کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں، تاجروں نے الزام عائد کیا ہے کہ کاروباری برادری کو ریلیف دینے کے باوجود واپڈا نے بلوں کی عدم ادائیگی کی بنا پر انکے بجلی کے میٹر منقطع کر دیے ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت اور وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی کہ وہ انکی کاروباری سرگرمیوں میں مزید مشکلات میں اضافہ نہ کریں کیونکہ انکے لیے پہلے ہی جاری بحران میں سنبھلنا مشکل ہوگیا ہے۔

تاجروں نے کہا کہ اب وہ مزید لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہو سکتے جبکہ دکانیں جلدی بند کرانے کی بجائے حکومت کو چاہیے کہ وہ کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کے تحت مرحلہ وار کاروبار کھولے۔

پرافٹ اردو کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے سرحد چیمبر آف کامرس کے نائب صدر حاجی جلیل جان نے کہا کہ “ایسا لگتا ہے کہ حکومت کورونا وائرس کے خلاف حفاظتی اقدامات کے ذریعے لوگوں کو بھوکا رکھنا چاہتی ہے”۔

یہ بھی پڑھیے:

45 دن کے لاک ڈاؤن سے ریٹیل سیکٹر کو 900 ارب روپے نقصان، لاکھوں نوکریاں ختم ہونے کا خدشہ

لاک ڈاؤن، سپلائی چین معطل ہونے سے چھوٹے کاروبار مشکلات کا شکار

انہوں نے کہا کہ حکومت کو صوبائی چیمبر کے ساتھ ٹریڈ یونین کی مشاورت کے بعد کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنا چاہیے۔انہوں نے خبردار کیا کہ “اگر یہ صورتحال رہتی ہے کے پی تاجروں کے پاس حکومت کے خلاف احتجاج کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہے”۔

چئیرمین تاجر اتحاد شوکت اللہ ہمدرد نے کہا کہ اس حقیقت سے قطع نظر کہ تاجروں کو یومیہ لاکھوں روپے کا نقصان ہورہا ہے، انہیں ضلعی انتظامیہ کے افسران کی جانب سے جرمانے بھی کیے گئے جس کا مقصد صرف ریونیو میں اضافہ کرنا ہے۔

اس دوران کے پی ٹریڈرز یونین کے صدر مجیب الرحمان نے نمائندہ پرافٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے مکمل طور پر صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ تاہم، حکومت کے غلط فیصلے لینے کی وجہ سے تاجروں کے نقصان میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ پیسکو نے مختلف تاجروں کی دکانوں کے بجلی کے میٹرز بھاری بلوں کے جمع نہ کرانے کی وجہ سے منقطع کیے۔

“ایک طرف چھوٹے تاجروں کا معاشی قتلِ عام جاری ہے جبکہ دوسری طرف تاجروں کو بھاری بلوں کر ختم کیا گیا۔ حکومت کو ضرور اس فیصلے پر نظر ثانی کرنئ چاہیے، اس سے قبل کے تاجر تنظیمیں احتجاج کے لیے نکلیں”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here