آئی پی پیز کیساتھ معاہدوں میں تبدیلی کےذریعے 4 ہزار700 ارب روپے بچائے جاسکتے تھے: رپورٹ

نجی بجلی گھروں کا بیسک ٹیرف اور منافع ڈالر کے بجائے ملکی کرنسی میں ادا کرنے سے خزانے کے ہزاروں ارب روپے بچائے جا سکتے تھے، زیادہ ٹیرف کے حصول کے لیے نیپرا کو غلط معلومات دی گئیں جن کی تصدیق بھی نہ کی گئی: رپورٹ

374

اسلام آباد: ایک اعلی سطحی انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انڈی پینڈینٹ پاور پروڈیوسرز ( آئی پی پیز ) کیساتھ کیے جانے والے معاہدوں کی کچھ شرائط تبدیل کرکے ملکی خزانے کے 4 ہزار 700 ارب روپے بچائے جاسکتے تھے۔

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے شعبہ  توانائی میں گھپلوں اور نقصانات کی تحقیقات کے لیے بنائی جانےوالی 9 رکنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں آئی پی پیز سے معاہدوں میں ترمیم کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ معاہدوں  کی وجہ سے نجی بجلی گھر بہت زیادہ منافع کما رہے ہیں۔

کمیٹی نے اپنی سفارشات میں حکومت کو تجویز دی ہے کہ آئی پی پیز کا بیسک ٹیرف ڈالر کے بجائے پاکستانی کرنسی میں تبدیل کیا جائے کیونکہ اس تبدیلی کے باعث ان نجی بجلی گھروں کو آئندہ سالوں میں صرف 8 ارب روپے کی ادائیگیاں کرنی پڑیں گی اور اگر یہ تبدیلی نہیں کی جاتی تو 8 ارب کے بجائے 3 ہزار  266 ارب روپے دینا پڑیں گے۔

یہ بھی پڑھیے:

وزیر توانائی عمر ایوب کا آئی پی پیز سے بجلی کے ٹیرف میں کمی کا مطالبہ

امریکی خام تیل کی قیمت منفی ہونے کا مطلب کیا ہے؟ عام کسٹمر کو کتنا فائدہ ہوگا؟

گھریلو صارفین کو مارچ کے گیس بل قسطوں میں جمع کرانے کی اجازت

کمیٹی نے آئی پی پیز کے مالکان کو منافع کی ادائیگی بھی ڈالر کے بجائے ملکی کرنسی میں کرنے کی سفارش کی۔

کمیٹی نے اپنی سفارشارت میں حکومت کو تجویز دی ہے کہ آئی پی پیز مالکان کیساتھ Take or Pay کا معاہدہ ختم کردیاجائے۔

کمیٹی کا کہنا  تھا کہ کیپیسٹی پیمنٹ، نیٹ ہائیڈل پرافٹ، گیس کی قیمتیں، اورگردشی قرضے شعبہ توانائی کے بڑھے ہوئے ٹیرف کی وجوہات میں شامل  ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر آئی پی پیز نے سرمایہ کاری پر 2  سے چار سال میں منافع حاصل کیا جس  کی شرح سرمایہ کاری سے 18.26 فیصد زائد ہے۔

1994 کی پاور پالیسی کے تحت 17 میں سے  16 آئی پی پیز نے 51.80 ارب کی سرمایہ کاری کی اور اس پر 415 ارب روپے کا منافع کمایا۔

گردشی قرضوں کو لگام ڈالنے کی حکومتی ناکامی کی وجہ سے ملک کو گزشتہ 13 برسوں میں 4 ہزار  82 ارب کا نقصان ہوا جبکہ ہر سال ہونے والا نقصان 370 ارب روپے ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ آئی پی پیز نے زیادہ ٹیرف حاصل کرنے کے لیے معاہدے کے وقت نیپرا کو غلط معلومات دیں جبکہ نیپرا نے بھی ان معلومات کی تصدیق نہیں کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here