وزارتِ توانائی کے مہنگے داموں ایل این جی خریدنے کے فیصلے سے قومی خزانے کو سالانہ 10 ارب کا نقصان ہوگا

کورونا کے باعث عالمی منڈی میں ایل این جی کی قیمت ڈیڑھ ڈالر پر آچکی ہے، وزارت توانائی نےوزیر اعظم کی ہدایات کو نظر انداز کرکے 2 ڈالر کے بجائے 4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی  یو کے حساب سے ایل این جی خریدنے کا فیصلہ کر لیا

509

اسلام آباد: وزارتِ توانائی نے انٹرنیشنل مارکیٹ میں لیکویفائڈ نیچرل گیس (ایل این جی) 2 ڈالر کے حساب سے خریدنے کی بجائے 4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی  یو کے حساب سے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) نے وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے دو انٹرنیشنل کمپنیوں سے 4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے ایل این جی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، کورونا وائرس پھیلنے کے باعث عالمی منڈی میں ایل این جی کی قیمت 1.5 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو پر آ چکی ہے، مہنگی ایل این جی خریدنے سے قومی خزانے کو سالانہ 10 ارب روپے کا نقصآن ہو گا۔

ذرائع نے بتایا کہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے لیے صارفین سے بلز اکھٹے کرنا مشکل ہو گیا ہے، دوسری طرٖف پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) تیل سپلائی کرنے والی بین الاقوامی کمپنی گنور (Gunvor) کو پانچ ارب کی ادائیگیاں نہیں کرسکی جبکہ مقامی بینکوں سے قرض لینے کی حد بھی ختم ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب سے پی ایس او انٹرنیشنل کمپنیوں کو پیٹرولیم مصنوعات کی ادائیگیاں کرنے میں ناکام ہوئی ہے اس نے حکومت سے 100 ارب روپے کے فنڈز فوری طور پر جاری کرنے کی درخواست کی ہے تاہم اگر حکومت نے پیسے جاری نہ کیے اور پی ایس او کا لیٹر آف کریڈٹ نادہندگی سے بچ نہ سکا تو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق عالمی منڈی میں ایل این جی کی رسد سرپلس ہے تاہم کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں ایل این جی کی کھپت میں کمی آئی ہے جس کی وجہ سے مجموعی طور پر ایل این جی کی قیمتوں میں گراوٹ آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

طلب کم ہونے سے پاکستان کا قطر سے ایل این جی کی درآمد میں کمی کا فیصلہ

قومی اداروں سے 335.7 ارب روپے کی عدم وصولی پر پی ایس او کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ

امریکی خام تیل کی قیمت منفی ہونے کا مطلب کیا ہے؟ عام کسٹمر کو کتنا فائدہ ہوگا؟

تیل کی قیمتوں میں تاریخی گراوٹ کے بعد یورپی و خلیجی سٹاک مارکیٹس میں مندی

پی ایس او ہر ماہ گنوور سے ایک کارگو جبکہ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) ماہانہ دو کارگو خرید رہی ہے ہے  جبکہ لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کی صورت میں خریداری کا معاہدہ منسوخ بھی کیا جا سکتا ہے۔

تاہم پیٹرولیم ڈویژن نے ایل این جی کی سپلائز منسوخ کرنے کی بجائے فکسڈ ریٹ پر خریداری جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے،  پیٹرولیم ڈویژن کے اس فیصلے سے قومی خزانے کو 10 ارب روپے کا نقصان ہو گا حالانکہ نجی شعبے نے بھی سستی ایل این جی فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس او کو اس وقت مالی بحران کا سامنا ہے کیونکہ یہ مہنگی ایل این جی فروخت کرکے بھی صارفین سے 105 ارب روپے اکھٹے نہیں کر سکی جس کی وجہ سے عالمی سپلائر کو وقت پر ادائیگی نہیں ہو پائی اور پی ایس او کو پانچ ارب روپے جرمانے کا سامنا ہے۔ پی ایس او کے سرکاری اور نجی اداروں کی جانب 365 ارب روپے واجب الادا ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here