نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی نے ایرانی کمپنی کے خلاف عالمی ثالثی عدالت میں قانونی جنگ جیت لی

ایرانی کمپنی کے دعوے مسترد، این ٹی ڈی سی کی جانب سے 4.5 ملین ڈالر کے جوابی دعوے تسلیم

637

اسلام آباد: وفاقی وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کے ذیلی ادارے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) نے ایرانی کمپنی کے خلاف عالمی ثالثی عدالت میں قانونی جنگ جیت لی۔

ایرانی کمپنی (GAM ARAK Ind.Co) نے 2017ء میں پیرس میں انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس کے رولز کے تحت قائم ثالثی ٹربیونل میں این ٹی ڈی سی کے خلاف کیس دائر کیا تھا۔

ہفتہ کو این ٹی ڈی سی کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ عالمی ثالثی ٹربیونل نے ایرانی کمپنی کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے این ٹی ڈی سی کی جانب سے 4.5 ملین ڈالر (تقریباً 71کروڑ روپے) کے جوابی دعوے تسلیم کرلئے۔

ٹربیونل نے ایرانی کمپنی کو  ہدایات جاری کیں کہ وہ یہ تمام رقم بطورہرجانہ این ٹی ڈی سی کو ادا کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایرانی کمپنی کو جولائی 2018سے سالانہ 7.925 فیصد کے حساب انٹرسٹ بھی اداکرنے کا پابند کیا گیا ہے جب تک کہ پوری رقم ادا نہیں ہوجاتی۔

یہ بھی پڑھیں: 

زمین کا تنازعہ دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے آڑے آنے لگا

ترسیلی نظام کی بہتری کیلئے این ٹی ڈی سی کا آٹو ٹرانسفارمرز نصب کرنے کا فیصلہ

کورونا، بجلی بلوں کی ادائیگی میں رعایت کا معاملہ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاق سے جواب مانگ لیا

ترجمان این ٹی ڈی سی نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ این ٹی ڈی سی اور ایرانی کمپنی کے مابین 500 کے وی گدو، ملتان تھرڈ سرکٹ ٹرانسمیشن لائن کے ڈیزائن، سپلائی، ٹیسٹنگ اور کمیشننگ کا معاہدہ فروری 2011میں طے پایا تاہم ایرانی کمپنی نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیراتی کام مکمل میں تاخیر کی اور کام ادھورا چھوڑ دیا جس پر این ٹی ڈی سی نے معاہدے کی شقوں کے مطابق ایرانی کمپنی کا ٹھیکہ منسوخ کرکے کسی دوسری کمپنی سے یہ کام مکمل کروایا۔

ایرانی کمپنی  نے 2017کے اوائل میں عالمی ثالثی ٹربیونل میں این ٹی ڈی سی کیخلاف ادائیگیوں اور نقصانات کی مد میں 180ملین روپے کے ہرجانے کادعوی دائر کیا تاہم این ٹی ڈی سی نے ادھورا کام مکمل کروانے کیلئے کسی دوسرے ٹھیکیدار کو رقم کی ادائیگی، ادارے کو نقصان، موبائلائزیشن ایڈوانسز، کسٹم ڈیوٹیز، اور ڈیمرج پر مشتمل جوابی دعوے داخل کروائے جسے عدالت نے تسلیم کرلیا اور ایرانی کمپنی کو پراجیکٹ میں تاخیر کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

ٹربیونل نے این ٹی ڈ ی سی کیلئے لیکوئیٹڈ ڈیمجز (liquidated damages)کی مد میں  93,591,449جاپانی کرنسی،منصوبے میں تاخیر کا معاوضہ 57,493,057روپے اور منصوبہ دوسری کمپنی سے مکمل کروانے کی لاگت کی مد میں  151,699,145 جاپانی کرنسی اور 167,546,831 روپے ادا کرنے کا حکم جاری کیا۔

ٹربیونل نے موبلائزیشن ایڈوانسز ان ایڈجسٹڈ پورشن کی مد میں 49,830,686 جاپانی کرنسی اور12,212,346 روپے اور ڈیمرج چارجز کی مد میں 128,133,604روپے بھی ادا کرنے کا حکم جاری کیا۔

ایرانی کمپنی کو 6 جولائی 2018 سے 7.925فیصد سالانہ کے حساب پاکستانی روپے والے پورشن پر انٹرسٹ بھی ادا کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ این ٹی ڈی سی کو قانونی اخراجات کی مد میں 78فیصد رقم ادا کرنا ہوگی۔

واضح رہے کہ این ٹی ڈی سی نے اس کیس کیلئے کسی بھی غیر ملکی وکیل یا قانونی ماہر کی خدمات حاصل نہیں کیں۔ این ٹی ڈی سی کی یہ قانونی جیت بین الاقوامی سطح پر حکومت پاکستان کیلئے خوش آئند ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here