شوگر کمیشن سے نکالے جانے والے افسر نے چینی کی برآمد میں بے باضابطگیوں سے پردہ اُٹھا دیا

چینی کی ستر فیصد برآمد افغانستان کو ہوئی جہاں روایتی طور پر چینی کے بجائے گڑ استعمال ہوتا ہے، سٹیٹ بنک، ایس ای سی پی اور ایف بی آر سے ڈیٹا مانگا تو اُلٹا مجھ پر معلومات چھپانے کا الزام لگا دیا گیا: سجاد مصطفیٰ باجوہ

678

اسلام آباد: شوگر انکوائری کمیشن سے نکالے جانے والے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سجاد مصطفیٰ باجوہ نے چینی کی برآمدات میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کردی۔

سجاد مصطفیٰ چینی بحران کی فرانزک تحقیق کے لیے تشکیل دیے گئے کمیشن کے رکن تھےجنھیں شوگر ملز مالکان کے لیے جاسوسی کرنے اور انھیں اہم معلومات فراہم کرنے کے الزامات کے تحت باصرف کمیشن سے نکال دیا گیا بلکہ ملازمت سے بھی معطل کردیا گیا ہے۔

ایف ائی اے کے سربراہ واجد ضیاء کے نام ایک خط میں سجاد مصطفیٰ نے لکھا ہے کہ چینی کی 70 فیصد برآمد افغانستان کو کی گئی مگر افغان عوام روایتی طور پر چینی کے بجائے گڑ استعمال کرتے ہیں جس کے باعث چینی کی یہ برآمد مشکوک ہے۔

ان کا کہنا ہے انکوائری کمیشن نے سٹیٹ بنک آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے پچھلے تین سالوں میں چینی برآمد کرنے والوں کے ناموں کی فہرست طلب کی تھی تاکہ اس بات کا پتہ چلایا جاسکے کہ آیا چینی ملک سے باہر بھجوائی بھی گئی یا اسے مقامی مارکیٹ میں ہی فروخت کردیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے افغانستان کو چینی برآمد کرنے والی شوگر ملز، افغان درآمد کنندگان کے ناموں کے علاوہ مبینہ طور پر چینی لے جانے والی گاڑیوں، ان کے ڈرائیوروں اورکلئیرنگ ایجنٹوں کی تفصیلات بھی مانگی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے:

رواں برس گندم خریداری کا ہدف پورا نہ ہوپانے کا امکان

جہانگیر ترین نے اپنی شوگر ملوں کے حکومتی آڈٹ کے معیار پر سوالات اٹھا دیے

آٹا چینی سکینڈل کے بعد پاور سیکٹر میں کرپشن کی انکوائری رپورٹ بھی پبلک کرنے کا فیصلہ

انکا اس حوالےسے مزید کہنا تھا کہ ’’ میں نے ایف بی آر اور سٹیٹ بنک آف پاکستان سے ان معلومات کے حصول کے لیے رابطہ کیا تھا مگر یہ ڈیٹا ابھی تک فراہم نہیں کیا گیا بلکہ اُلٹا مجھ پر معلومات چھپانےکا الزام لگا دیا گیا۔

 سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سے بھی چینی کی صنعت کو ریگولیٹ کرنے میں اس کے کردار بارے بذریعہ خط دریافت کیا گیا لیکن اس کا بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا بلکہ وہ خط جو صرف معلومات کے حصول کے لیے لکھا گیا تھا اسے جرم سمجھ لیا گیا‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ انکوائری ٹیم نے ایس ای سی پی سے گھوٹکی میں واقع الائنس شوگر مل کی تین سال سے جاری انسپکشن بارے بھی سوال کیا تھا۔

مزید برآں ایف بی آر سے گنے کی خریداری اور چینی کے تھیلے برآمد کرنے کے موجودہ طریقہ کار بارے معلومات مانگی گئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسٹم اور ایکسائز کے محکمے شوگر پیداوار اور اسکی فروخت کے ذمہ دار ہیں۔ ان محکموں کی جانب سے گیٹ پاس کے ہر صفحے پر دستخط کیے جاتے ہیں اور مہر لگائی جاتی ہے مزید برآں یہ محکمے باقاعدہ سیریل نمبرز کی صورت میں ریکارڈ رکھتے ہیں مگر تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ایسا نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے آڈٹ اور تصدیق کے لیے دستاویزات موجود نہیں۔

سجاد مصطفیٰ نے الزام لگایا کہ ایف بی آر نے نہ صرف ڈیلروں کو سیلز ٹیکس میں لائے بغیر کام کرنے دیا بلکہ شوگر ملوں کو ڈرائیوروں اور مزدوروں کے نام پر چینی کی فرضی فروخت کی اجازت بھی دی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر سے پوچھا جانا چاہیے کہ شوگر سیکٹر کے حوالے سے قوانین کا نفاذ 2015ء کے بعد سے اب تک کیوں نہیں کیا گیا؟ مزید برآں چینی کی غیر رجسٹرڈ شخص کو فروخت پر 3 فیصد ٹیکس کی چھوٹ کی سہولت ختم کیوں نہیں کی گئی؟

خط میں اپنے اوپر لگائے گئے الزاما ت کے حوالے سے بات کرتے ہوئےانہوں نے ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیا سے کہا کہ ان پر الزامات لگائے جانے پر انہوں نے ثبوت مانگے تھے مگر آپ (واجد ضیا) کی جانب سے ثبوت فراہم کرنے کے بجائے میڈیا میں بدنام کیا گیا جو ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے ایک غیر اخلاقی حرکت ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here