خیبر پختونخوا میں زیتون کاشت کرکے پاکستان خوردنی تیل کی درآمد پر اٹھنے والے اخراجات کم کر سکتا ہے

پاکستان خوردنی تیل کی درآمد پر سالانہ 225.69 ارب روپے خرچ کرتا ہے، کے پی میں 7 لاکھ ہیکٹر رقبہ زیتون کی کاشت کیلئے موزوں سمجھا جا تا ہے جس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے

321

پشاور: خیبرپختونخوا کا محکمہ ایگریکلچر ریسرچ وفاقی حکومت کے اشتراک سے صوبے سمیت قبائلی اضلاع میں زیتون کی کاشت کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کر رہا ہے۔ 

اس حوالے سے پشاور میں قائم ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر کسانوں کو زیتون کے درختوں کی کاشت کے بارے میں تربیت اورآگاہی دینے کے لیے مختلف پروگرام منعقد کرتا رہتا ہے۔

محکمہ زرعی تحقیق خیبر پختونخوا کے افسران نے بتایا کہ کے پی کے پاس چھ لاکھ اور سات لاکھ ہیکٹرز تک ایسا رقبہ موجود ہے جہاں زیتون کے درختوں کی کاشت کی جا سکتی ہے جس سے پاکستان ناصرف زیتون کے تیل کی درآمد کی مد میں سالانہ قیمتی زرمبادلہ بچا سکتا ہے بلکہ اگر مذکورہ رقبہ زیر کاشت لایا جائے تو چند ہی سالوں میں زیتون کا تیل برآمد کرنے کے قابل ہوجائے گا۔

پیٹرولیم مصنوعات کے بعد پاکستان ہر سال پام آئل، سویا بین اور دیگر اقسام کے خوردنی تیل درآمد کرنے پر 225.69 ارب روپے خرچ کرتا ہے، ذرائع کے مطابق محکمے نے آئندہ پانچ سال کے لیے زیتون کے لاکھوں درخت لگانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا لاک ڈاؤن کے باعث پام آئل کی مانگ میں کمی، ملائیشیا، انڈونیشیا کو بڑا دھچکا

آم کے گودے کی برآمد، پاکستان کے لیے 500 ملین ڈالر کمانے کا ذریعہ بن سکتی ہے: ماہرین

صوبے میں اس وقت زیتون کے قابل کاشت بڑا رقبہ بنجر پڑا ہے، چوںکہ اس سے کسی دوسری فصل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں ہے اس لیے بنجر رقبے کو زیتون کے پودوں کی کاشت کیلئے کام میں لایا جا سکتا ہے۔

منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹراحمد سید نے پاکستان ٹوڈے کو بتایا کہ کے پی میں زیتون کی کاشت کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے، ماضی میں صوبے میں زیتون کا کوئی بھی خریدار نہیں تھا لیکن اب زیتون کسانوں سے 100 روپے سے 120 روپے فی کلو خریدا جانے لگا ہے۔ اس وقت زیتون کے باغات دیر، سوات، ایبٹ آباد اور نوشہرہ میں لگائے گئے ہیں جس سے 6000 لیٹر زیتون کا تیل حآصل کیا جا سکتا ہے۔

احمد سید نے کہا کہ اگر ٹیکنیکل سٹاف اور بہتر مینجمنٹ کی مدد کے ساتھ زیتون کی کاشت چھ لاکھ ہیکٹرز میں سے 50 فیصد رقبے پر بھی کی جائے تو پاکستان زیتون برآمد کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت نے زیتون کی کاشت کے لیے نئی 1680 ایکڑ زمین کا سروے کرنا تھا جو کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوگیا، یہ سروے آئندہ سال کیا جائے گا۔

احمد سید نے کہا کہ پاکستان میں پہلے زیتون پر اتنی تحقیق نہیں کی گئی تھی کہ کسانوں کو اس کی کاشت کی جانب راغب کیا جا سکتا، لیکن اب محکمہ زراعت مسلسل اس پر تحقیق کر رہا ہے، ٹیکنیکل سٹاف کسانوں کو اس فصل کی پیداوار بڑھانے اور دیگر مسائل کے حوالے سے مدد کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے 50 فیصد علاقے بشمول باجوڑ، کرم، شمالی اور جنوبی وزیرستان زیتون کی پیداوار کیلئے موزوں ہیں،ان اضلاع میں زیتون کی کاشت ماحول کو محفوظ بنانے میں بھی معاون ہو گی اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار بھی پیدا ہوگا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here