ٹرانسپورٹ، صنعتی سرگرمیوں پر پابندی سے کاربن کے اخراجات میں 6 فیصد کمی

247

اسلام آباد: کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں جاری لاک ڈائون کے باعث ٹرانسپورٹ اور صنعتیں بند ہیں جس سے کاربن کے اخراج میں 6 فیصد کمی آئی ہے اور اس کا نہایت خوشگوار اثر آب و ہوا پر پڑا ہے۔

اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) نے کہا ہے کہ 1970ء کے مقابلہ میں ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار 26 فیصد تک بڑھ چکی ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر درجہ حرارت میں 0.86 ڈگری اضافہ ہوا ہے۔

عالمی ادارے کے مطابق دنیا بھر میں صنعتی ترقی کے بعد درجہ حرارت انڈسٹریلائزیشن سے پہلے کے دور کے مقابلہ میں 1.1 ڈگری بڑھ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

بی ایم ڈبلیو کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے اخراج کو 20 فیصد تک کم کرے گی

کورونا لاک ڈاؤن کے باعث پام آئل کی مانگ میں کمی، ملائیشیا، انڈونیشیا کو بڑا دھچکا

الیکٹرک وہیکلز پالیسی بن گئی، لیکن کیا پاکستان میں بجلی پر گاڑیاں چلانے کا منصوبہ کامیاب ہو پائے گا؟

ڈبلیو ایم او نے کہا ہے کہ کوویڈ۔19 سے سماجی اور معاشی مسائل پیدا ہوئے ہیں جن پر قابو پانے کے لئے عالمی برادری نے ہنگامی اقدامات کئے ہیں تاکہ وباء پر قابو پایا جاسکے۔

اسی طرح موسمیاتی تبدیلیاں بھی دنیا کے لئے مسائل کا سبب بن رہی ہیں جن کے تدارک کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔

ڈبلیو ایم او نے کہا ہے کہ وباء کے دوران صنعتی و تجاتی سرگرمیوں میں کمی کے باعث فضائی آلودگی میں کمی کے ساتھ ساتھ ماحولیات کے شعبہ پر بھی بعض مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ عالمی ادارے کے مطابق لاک ڈاؤن کے باعث ٹرانسپورٹ اور صنعتی سرگرمیوں پر پابندی کے نتیجہ میں کاربن کے اخراجات میں 6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ڈبلیو ایم او نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ کاروباری، صنعتی اور سماجی سرگرمیوں کی بحالی سے آئندہ سال مضرصحت گیسوں کے اخراج کی پرانی شرح واپس آ سکتی ہے جس سے آنے والی کئی صدیوں کے لئے عالمی برادری کو سماجی اور معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ ماحولیات کے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here