لاک ڈاؤن، سپلائی چین معطل ہونے سے چھوٹے کاروبار مشکلات کا شکار

کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے سے کاروبار مالکان مالی مشکلات کا شکار، حکومت سےمدد کا مطالبہ، بڑی تعداد میں ملازمین نوکریں سے فارغ کردیے

290

لاہور: ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے ایس ایم ای ( SME ) سیکٹر کے بانوے فیصد حصے کو سپلائی چین میں تعطل کا سامنا ہے۔

اس بات کا انکشاف سمال اینڈ میڈیم انڑپرائزز ڈیویپلمنٹ اتھارٹی ( سمیڈا ) کے سروے میں کیا گیا ہے جس میں ملک بھر سے 920 کاروباروں نے حصہ لیا۔

سروے کے مطابق 95 فیصد کاروبار مالکان نے کورونا لاک ڈاؤن کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے، 92 فیصد نے سپلائی چین معطل ہونے اور 23 فیصد نے برآمدات کی مد میں مکمل نقصان کا انکشاف کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

آئی ایم ایف نے پاکستان سمیت 76 ممالک کے قرضے ایک سال کیلئے منجمد کردئیے

موڈیز نے معیشت سکڑنے سے پاکستان میں کساد بازاری کا خدشہ ظاہر کردیا

کورونا کے باعث رواں برس دنیا میں ترسیلات زر 100 ارب ڈالر کم ہوجائیں گی : ورلڈ بنک

سروے میں حصہ لینے والے 46 فیصد کاروباروں نے حالات کے پیش نظر ملازمین کی تعداد میں کمی کرنے کا اعتراف کیا۔ تاہم ان میں سے 26 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے ایک ماہ بعد نکالے جانے والے ملازمین کو دوبارہ نوکری پر رکھ لیں گے ۔

سروے میں یہ چیز سامنے آئی کہ تقریباً 89 فیصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار مالی مسائل کا شکار ہیں جن میں سے 60 فیصد اپنی مصنوعات کی فروخت نہ کرپانے کے باعث حکومتی امداد کے مستحق ہیں۔

یہ امداد معاشی پیکج، ٹیکسوں میں چھوٹ، گرانٹوں، یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی میں رعایت، قرض واپسی کی شرائط میں نرمی اور تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں مدد کی صورت میں درکار ہے۔

سمیڈا کا اپنے سروے میں کہنا تھا کہ کورونا لاک ڈاؤن کے معیشت پربہت بُرے اثرات مرتب ہوئے ہیں جن میں بے روزگاری میں اضافہ، حکومتی ریونیو میں کمی، سپلائی چین میں تعطل اور برآمدات میں کمی شامل ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here