عالمی معاشی بحران، جنوبی ایشیا کو ترسیلات زر میں 109 ارب ڈالر خسارے کا امکان

معاشی سرگرمیوں کی بندش سئ امریکا، برطانیہ،اوریورپ سے ترسیلات زر میں واضح کمی کے علاوہ تیل کی قیمتیں گرنے سے خلیج، مشرق وسطیٰ اورملائشیاء میں کام کرنے والے جنوبی ایشیائی ورکرز کی جانب سے ترسیلات زر میں کمی کا امکان

165

اسلام آباد: کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں معاشی سرگرمیاں بند ہیں جس کی بنیاد پرعالمی بنک نے سال 2020ء کے دوران جنوبی ایشیاء کے خطے میں ترسیلات زر میں 22 فیصد کمی کی پیشنگوئی کی ہے۔

عالمی بنک کی جانب سے جمعہ کوجاری ہونے والی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ کورونا کی عالمگیر وبا کے باعث پوری دنیا میں  جاری سال کے دوران ترسیلات زرمیں 20 فیصد جبکہ جنوبی ایشیاء کے خطے میں 22 فیصد یا 109 ارب ڈالر کی کمی کاامکان ہے۔

تارکین وطن کی جانب سے بھیجے جانے والی رقوم ترقی پذیر ممالک کے لیے سرمائے کا بڑا ذریعہ ہیں جس میں کمی کا مطلب ہے کہ کورونا کے باعث پہلے ہی مالی بحران کے شکار ان ممالک کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیے: 

کورونا کے باوجود بیرون ملک سے ترسیلات زر میں ایک ماہ میں 9.3 فیصد اضافہ

خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زرمیں 5.46 فیصد اضافہ ہوا، سٹیٹ بینک

موڈیز نے معیشت سکڑنے سے پاکستان میں کساد بازاری کا خدشہ ظاہر کردیا

رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیاء کے خطے میں گزشتہ سال کے دوران ترسیلات زرمیں 6.1 فیصد کی بڑھوتری ریکارڈکی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی وباء اورتیل کی قیمتوں اورطلب میں کمی ایسے عوامل ہیں جس سے جنوبی ایشیاء کے خطے میں ترسیلات زرپر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی ایشیاء کے ممالک کو جاری سال کے دوران امریکا، برطانیہ، اوریورپی ممالک سے ترسیلات زر میں واضح کمی آنے کا امکان ہے۔

اسی طرح تیل کی قیمتیں گرنے سے خلیج، مشرق وسطیٰ کے ممالک اورملائشیاء میں کام کرنے والے جنوبی ایشیائی ورکروں کی جانب سے ترسیلات زر میں کمی آئیگی۔

واضح رہے کہ عالمی بینک نے اس سے قبل دنیا بھر کی ترسیلات زر میں 100 ارب ڈالر کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے جس کی بنیادی وجہ کورونا وائرس کا پھیلائو روکنے کیلئے دنیا بھر میں معاشی سرگرمیوں کی بندش ہے۔

کورونا لاک ڈاؤن کے باعث معیشتیں مشکل کا شکار ہیں اور اسکی وجہ سے کم اور درمیانے درجے کی آمدنی والے ممالک کی ترسیلات زر 20 فیصد کم ہوجائیں گی۔

گزشتہ برس ان ممالک کے ترسیلات زر 554 ارب ڈالر تھیں جو اس برس کم ہوکر 445 ارب ڈالر ہوجائیں گی۔ ترسیلات زر میں یہ کمی تاریخی ہوگی اور اس کا سب سے زیادہ شکار صومالیہ، ہیٹی، جنوبی سوڈٓان جیسے چھوٹے جزیرہ نما ممالک ہوں گے جہاں ترسیلات زر کا جی ڈی پی میں حصہ ایک تہائی ہے۔

پاکستان، بھارت، مصر، فلپائن اور نائجیریا کے لیے بھی ترسیلات زر سرمائے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں اور انہیں بھی اس میں بڑی کمی کا سامنا ہوگا۔

ورلڈ بنک کے ممتاز معاشی ماہر دلیپ راٹھا کا اس حوالے سے برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ترسیلات میں 20 فیصد کمی ان پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔ اس سے تارکین وطن اور انکے خاندانوں پر بہت برا اثر پڑے گا۔

ورلڈ بنک کے اندازے کے مطابق 2019 میں 700 ملین تارکین وطن اپنے خاندانوں کو مالی سہارا فراہم کر رہے تھے مگر کسی بھی بحران میں جن لوگوں کی نوکریاں سب سے پہلے ختم ہوتی ہیں وہ یہی تارکین وطن ہی ہوتے ہیں۔

بحران کی اس گھڑی میں کاروباروں کو سہارا دینے اور انھیں ملازمین کی نوکریاں برقرار رکھنے کے لیے مدد فراہم کی ہے مگر تاحال زیادہ تر حکومتوں کی طرف سے تارکین وطن  کے روزگار کے تحفظ کے لیے کوئی قدم نہیں اُٹھایا گیا۔

سعودی عرب اور قطر سمیت خلیجی ممالک کی جانب سے کورونا بحران کی وجہ سے تارکین وطن کو ڈی پورٹ کرنے کی اطلاعات ہیں جس کے بارے میں سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس نے کسی بھی غیر ملکی ملازم کو زبردستی ملک سے نہیں نکالا البتہ وہ ان ممالک کی حکومتوں کیساتھ رابطے میں ہے جن کے تارکین وطن اپنے ملک واپس جانا چاہتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here