امریکی کانگریس نے 484 ارب ڈالرز کے اقتصادی امدادی پیکج کی منظوری دیدی

336

واشنگٹن: امریکہ کانگریس نے ملک میں کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن سے پیدا ہونے والی معاشی صورتحال کے پیش نظر 484 ارب ڈالرز کے امدادی پیکج کی منظوری دی ہے۔

جمعہ کو امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ کے ایوان نمائندگان میں اس بارے میں ووٹنگ کرائی گئی جس دوران کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی معاشی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 484 ارب ڈالرز کے امدادی پیکج کی منظوری دیدی گئی۔

امریکی ایوان نمائندگان میں امدادی پیکج کو 5 کے مقابلے میں 388 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔ اس امدادی پیکج کا مقصد کورونا وائرس کی وبا سے ملک میں چھوٹے کاروباری طبقے کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

امریکا میں کورونا وائرس کے باعث 66 لاکھ سے زیادہ ورکرز بے روزگار

تیل کی قیمتوں میں تاریخی گراوٹ کے بعد امریکا کا سٹریٹجک ذخائر 75 ملین بیرل تک لے جانے کا اعلان

کوروناوائرس: جرمنی، فرانس، امریکا، برطانیہ کی معیشتیں بد ترین کساد بازاری کے دہانے پر

رواں ہفتے کے آغاز میں امریکی سینیٹ کی جانب سے منظور کردہ اس بل کے تحت ہسپتالوں اور کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کٹس کے لیے بھی فنڈ فراہم کیا جائے گا۔ تاہم یہ رقم ریاستی حکومتوں کو نہیں دی جائے گی۔

امریکی ایوان نمائندگان میں ووٹنگ اور امدادی پیکج کے منظوری کے لیے اجلاس میں شریک قانون سازوں نے چہروں پر ماسک پہن رکھے تھے جبکہ اجلاس کے دوران سماجی فاصلہ بھی برقرار رکھا گیا۔

ووٹنگ کے عمل کے لیے اراکین کو تقریباً 60 افراد کے گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور انھیں کہا گیا تھا کہ جب تک ان کے گروپ کو بلایا نہ جائے وہ اپنے دفاتر میں ہی رہیں۔

دوسری جانب امریکہ میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کرگئی۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ میں دنیا میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 8 لاکھ 80 ہزار سے زیادہ ہے جبکہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 10 فیصد سے بھی کم ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس کے مجموعی مصدقہ کیسوں کی تعداد 880204 ہے جن میں سے 85922 صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ کورونا  کے 744437 مریض زیر علاج ہیں۔

دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعض ریاستوں کی جانب سے مرحلہ وار لاک ڈاؤن ختم کرنے کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔ اس سے قبل انھوں نے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کے حق میں ٹویٹ بھی کیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here